اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 108
اصحاب بدر جلد 2 108 حضرت ابو بکر صدیق 289 شخص نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے بنو کعب یعنی بنو خزاعہ کے ساتھ کیا کیا ہے؟ اس کے بعد رسول اللہ صلی نیلم نے دیہات اور ارد گرد کے مسلمانوں میں پیغامات بھجوائے اور ان سے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ رمضان کے مہینہ میں مدینہ حاضر ہو جائے۔پس آنحضرت صلی اللہ وسلم کے اعلان کے مطابق قبائل عرب مدینہ آنے شروع ہو گئے۔جو قبائل مدینہ پہنچے ان میں بنو اسلم ، بنو غِفَار ، بنو مُزِّينَه، بنو اشجع اور بنو جهَینَہ تھے۔اس وقت رسول اللہ صلی العلیم نے یہ دعا کی کہ اے اللہ ! قریش کے مخبروں اور جاسوسوں کو روک دے یہاں تک کہ ہم ان لوگوں پر ان کے علاقے میں اچانک جا پہنچیں۔آنحضور صلی ہم نے تمام راستوں پر نگرانی کرنے والی جماعتیں بٹھا دیں تا کہ ہر آنے جانے والے کے متعلق پتا رہے۔آپ صلی للی یکم نے ان سے فرمایا کہ جو کوئی بھی انجان تمہارے پاس سے گزرے تو اسے روک دینا تا کہ قریش کو مسلمانوں کی تیاری کا علم نہ ہو سکے۔اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی الیم نے اپنی ایک بیوی سے کہا کہ میر اسامانِ سفر باندھناشروع کرو۔انہوں نے رختِ سفر باند ھناشروع کیا اور حضرت عائشہ سے کہا کہ میرے لیے سٹو وغیرہ یا دانے وغیرہ بھون کر تیار کرو۔اسی قسم کی غذائیں ان دنوں میں ہوتی تھیں۔چنانچہ انہوں نے مٹی وغیرہ پھٹک کر دانوں سے نکالنی شروع کی۔حضرت ابو بکر گھر میں بیٹی کے پاس آئے اور انہوں نے یہ تیاری دیکھی تو پو چھا عا ئشہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ کیارسول اللہ کسی سفر کی تیاری میں نہیں ؟ کہنے لگیں سفر کی تیاری ہی معلوم ہوتی ہے۔آپ صلی یہ ہم نے سفر کی تیاری کے لیے کہا ہے۔حضرت ابو بکر نے اس پر کہا کوئی لڑائی کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے تو کچھ پتہ نہیں۔رسول اللہ صلی علیہ یکم نے فرمایا ہے کہ میر اسامانِ سفر تیار کرو اور ہم ایسا کر رہے ہیں۔دو تین دن کے بعد آپ نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو بلایا اور کہا دیکھو تمہیں پتہ ہے خُزاعہ کے آدمی اس طرح آئے تھے اور پھر بتایا کہ یہ واقعہ ہوا ہے اور مجھے خدا نے اس واقعہ کی پہلے سے خبر دے دی تھی کہ انہوں نے غداری کی ہے اور ہم نے ان سے معاہدہ کیا ہوا ہے۔اب یہ ایمان کے خلاف ہے کہ ہم ڈر جائیں اور مکہ والوں کی بہادری اور طاقت دیکھ کر ان کے مقابلہ کے لیے تیار نہ ہو جائیں۔تو ہم نے وہاں جانا ہے تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت ابو بکر نے کہا۔یارسول اللہ ! آپ نے تو ان سے معاہدہ کیا ہوا ہے اور پھر وہ آپ کی اپنی قوم ہے۔مطلب یہ تھا کہ کیا آپ اپنی قوم کو ماریں گے ؟ حضور صلی الم نے فرمایا۔ہم اپنی قوم کو نہیں ماریں گے۔معاہدہ شکنوں کو ماریں گے۔پھر حضرت عمر سے پوچھا۔تو انہوں نے کہا۔بسم اللہ میں تو روز دعائیں کیا کرتا تھا کہ یہ دن نصیب ہو اور ہم رسول اللہ صلی الی میم کی حفاظت میں کفار سے لڑیں۔رسول کریم صلی علی کرم نے فرمایا۔ابو بکر بڑا نرم طبیعت کا ہے مگر قولِ صادق عمر کی زبان سے زیادہ جاری ہو تا ہے۔آنحضرت صلی علی رام نے فرمایا کہ تیاری کرو۔پھر آپ نے ارد گرد کے قبائل کو اعلان بھجوایا کہ ہر شخص جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ رمضان کے ابتدائی دنوں میں مدینہ میں جمع ہو