اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 97
حاب بدر جلد 2 غزوہ احزاب 97 حضرت ابو بکر صدیق بہر حال اب ذکر ہے غزوہ احزاب کا جو شوال پانچ ہجری میں ہوئی۔قریش مکہ اور مسلمانوں کے مابین یہ تیسرا بڑا معرکہ تھا جو غزوہ خندق بھی کہلاتا ہے۔یہ غزوہ شوال 15 ہجری میں ہوا۔چونکہ قریش، یہودِ خیبر اور بہت سے گروہ اس میں جتھہ بندی کر کے مدینہ منورہ پر چڑھ آئے تھے اس لیے قرآن کریم میں مذکور نام احزاب سے بھی یہ معرکہ منسوب ہے یعنی غزوہ احزاب۔جب رسول اللہ صلی الیکم نے یہود کے قبیلہ بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا تو وہ خیبر چلے گئے۔ان کے اشراف اور معززین میں سے چند آدمی مکہ روانہ ہوئے۔انہوں نے قریش کو اکٹھا کیا اور انہیں رسول اللہ صلی علیم کے مقابلہ کی ترغیب دی۔ان لوگوں نے قریش سے معاہدہ کیا اور سب نے آپ سے جنگ پر اتفاق کیا اور اس کے لیے انہوں نے ایک وقت کا وعدہ کر لیا۔بنو نضیر کے وہ لوگ قریش کے پاس سے نکل کر قبیلہ غطفان اور سکیم کے پاس آئے اور ان سے بھی اس قسم کا معاہدہ کیا اور پھر وہ لوگ ان کے پاس سے روانہ ہو گئے۔قریش تیار ہو گئے انہوں نے متفرق قبائل کو اور ان عربوں کو جو ان کے حلیف تھے جمع کیا تو چار ہزار ہو گئے۔ابو سفیان بن حرب ان کا سردار تھا۔راستہ میں دیگر قبائل کے لوگ بھی اس لشکر سے ملتے رہے۔یوں اس لشکر کی مجموعی تعداد دس ہزار ہو گئی۔رسول الله صل الم کو ان لوگوں کے مکہ سے روانہ ہونے کی خبر پہنچی تو آپ نے صحابہ کرام کو بلوایا اور انہیں، صحابہ کو ، دشمن کی خبر دی اور اس معاملہ میں ان سے مشورہ کیا۔اس پر حضرت سلمان فارسی نے خندق کی رائے دی جو مسلمانوں کو پسند آئی۔عہد نبوی میں مدینہ کی شمالی سمت کھلی تھی۔باقی تین اطراف میں مکانات اور نخلستان تھے جن میں سے دشمن گذر نہ سکتا تھا۔چنانچہ کھلی سمت میں خندق کھود کر شہر کے دفاع کا فیصلہ ہوا۔رسول اللہ صلی الم نے تین ہزار مسلمانوں کے ساتھ مل کر خندق کھودنی شروع کی۔آنحضرت صلی علی نیم دیگر مسلمانوں کے ہمراہ خندق کھودنے کا کام کر رہے تھے تاکہ مسلمانوں کا حوصلہ بڑھے۔کل چھ ایام میں یہ خندق کھودی گئی۔اس خندق کی لمبائی تقریباً چھ ہزار گز یا کوئی ساڑھے تین میل تھی۔254 حضرت ابو بکر نبی کریم ملی ایام کے ساتھ ساتھ رہے۔خندق کھودنے کے دوران حضرت ابو بکر اپنے کپڑوں میں مٹی اٹھاتے تھے اور آپ نے خندق کھودنے میں بھی باقی صحابہ کے ساتھ مل کر کام کیا تا کہ خندق کی کھدائی کا کام مقررہ وقت کے اندر جلد از جلد مکمل ہو جائے۔خندق کھودنے میں کوئی مسلمان پیچھے نہیں رہا اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو جب ٹوکریاں نہ مالتیں تو جلدی میں اپنے کپڑوں میں مٹی منتقل کرتے تھے اور وہ دونوں نہ کسی کام میں اور نہ سفر و حضر میں ایک دوسرے سے جدا ہوتے تھے۔256 255 رسول الله علی ای ایم نے خندق کی کھدائی میں سخت محنت کی۔کبھی کدال چلاتے اور کبھی بیچے سے مٹی