اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 89
اصحاب بدر جلد 2 89 حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ اپنے گھر واپس تشریف لے گئے۔اس وقت آنحضرت صلی للی کرم نے اسلامی لشکر کی کمان ایک روایت کے مطابق حضرت علی کے سپرد فرمائی جبکہ دوسری روایت کے مطابق یہ سعادت حضرت ابو بکر کے حصہ میں آئی۔ادھر آنحضرت صلی اللہ وسلم ان کا سختی کے ساتھ محاصرہ کیے رہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں یعنی یہودیوں کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب پیدا کر دیا اور آخر کار انہوں نے رسول اللہ صلی الیم سے درخواست کی کہ ان کو اس شرط پر جلا وطن ہونے کی اجازت دے دی جائے اور جان بخشی کر دی جائے کہ سوائے ہتھیاروں کے انہیں ایسا تمام سامان لے جانے دیا جائے جو اونٹوں پر لادا جا سکتا ہے۔آنحضرت صلی الم نے ان کی یہ شرط اور درخواست منظور فرمالی۔ایک روایت کے مطابق آپ نے پندرہ روز تک ان کا محاصرہ کیا جبکہ بعض روایات میں دنوں کی تعداد میں اختلاف پایا جاتا ہے۔رسول اللہ صلی الیم نے انصار کی اجازت سے غزوہ بنو نضیر سے حاصل ہونے والا جو سارا مال غنیمت تھا وہ مہاجرین میں تقسیم کر دیا تو حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! اللہ تمہیں جزائے خیر عطا کرے۔243 غزوة بدر الموعد 242 یہ 14 ہجری کا واقعہ ہے۔اس غزوہ کا سبب یہ ہے کہ ابو سفیان بن حرب جب غزوۂ احد سے واپس آنے لگا تو اس نے بآواز بلند کہا کہ آئندہ سال ہماری اور تمہاری ملاقات بدر الصفراء کے مقام پر ہو گی۔ہم وہاں جنگ کریں گے۔رسول اللہ صل ا لی ایم نے حضرت عمر فاروق کو فرمایا: اسے کہو ہاں ان شاء اللہ۔اسی پر لوگ جدا ہو گئے۔قریش واپس آگئے اور انہوں نے اپنے لوگوں کو اس وعدے کے بارے میں بتا دیا۔بدر مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مشہور کنواں ہے جو وادگی صفراء اور جاز جو مقام ہے اس کے درمیان واقع ہے۔بدر مدینہ کے جنوب مغرب میں 150 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔زمانہ جاہلیت میں اس جگہ ہر سال یکم ذیقعدہ سے آٹھ روز تک ایک بڑا میلہ لگا کرتا تھا۔بہر حال جوں جوں وعدے کا وقت قریب آرہا تھا ابوسفیان رسول اللہ صلی ال یکم کی طرف نکلنے کو نا پسند کر رہا تھا۔اس کو خوف پید اہو رہا تھا۔وہ یہی چاہتا تھا کہ اس مقررہ وقت میں آپ سے ملاقات نہ ہی ہو۔ابوسفیان ظاہر کر رہا تھا کہ وہ ایک جرار لے کر آپؐ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کر رہا ہے تا کہ یہ خبر اہل مدینہ تک پہنچا دے کہ وہ ایک بہت بڑا لشکر جمع کر رہا ہے اور عرب کے گوشے گوشے میں خبر پھیلا دی جائے تا کہ مسلمانوں کو اس سے خوفزدہ کیا جاسکے۔244 ایک روایت کے مطابق حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ بھی رسول اکرم علی ایم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب کرے گا۔اپنے نبی صلی علیہ ہم کو عزت دے گا۔ہم نے قوم کے ساتھ وعدہ کیا تھا اور ہم اس کی خلاف ورزی پسند نہیں کرتے۔وہ یعنی کفار اسے بزدلی شمار کریں گے۔آپ صلی علی ایک وعدہ کے مطابق تشریف لے چلیں۔بخدا اس میں ضرور بھلائی