اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 88 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 88

حاب بدر جلد 2 88 حضرت ابو بکر صدیق بہر حال مسلمانوں کا یہ قافلہ جب مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلہ پر حمراء الاسد پہنچا تو مشرکین کو خوف محسوس ہوا اور مدینہ کی طرف لوٹنے کا ارادہ ترک کر کے وہ واپس مکہ روانہ ہو گئے۔241 غزوہ بنو نضیر یہ 14 ہجری میں تھا۔آنحضرت صلی علیم صحابہ کی ایک مختصر جماعت کے ساتھ بنو نضیر کے ہاں تشریف لے گئے۔اس بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں کہ آپ صلی یہ تم وہاں کیوں تشریف لے کر گئے۔چنانچہ ایک روایت کے مطابق آپ صلی علیہ کم ان کے پاس بنو عامر کے دو مقتولوں کی دیت وصول کرنے کے لیے گئے تھے۔آپ ملی ایم کے ساتھ دس کے قریب صحابہ تھے جن میں حضرت ابو بکر حضرت عمرؓ اور حضرت علی بھی تھے۔آنحضرت صلی علیم نے وہاں پہنچ کر ان سے رقم کی بات کی تو یہودیوں نے کہا کہ ہاں اے ابو القاسم ! آپ پہلے کھانا کھا لیجیے پھر آپ کے کام کی طرف آتے ہیں۔اس وقت آنحضرت صلی علیہ نظم ایک دیوار کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔آنحضرت صلی الله علم کو قتل کرنے کی سازش یہود کی جلا وطنی یہودیوں نے آپس میں سازش کی اور کہنے لگے کہ اس شخص یعنی آنحضرت صلی علم کو ختم کرنے کے لیے تمہیں اس سے بہتر موقع نہیں ملے گا۔اس لیے بتاؤ کون ہے جو اس مکان پر چڑھ کر ایک بڑا پتھر ان کے اوپر گرادے تاکہ ہمیں ان سے نجات مل جائے۔اس پر یہودیوں کے ایک سردار عمر و بن بخاش نے اس کی حامی بھری اور کہا کہ میں اس کام کے لیے تیار ہوں مگر اسی وقت سلام بن مشکم نامی ایک دوسرے یہودی سردار نے اس ارادے کی مخالفت کی اور کہا یہ حرکت ہر گز مت کرنا۔خدا کی قسم ! تم جو کچھ سوچ رہے ہو اس کی انہیں ضرور خبر مل جائے گی۔یہ بات بد عہدی کی ہے جبکہ ہمارے اور ان کے در میان معاہدہ موجود ہے۔پھر وہ شخص جب او پر پہنچ گیا یعنی پتھر گرانے والا، تا کہ آنحضرت صلی للی کم پر پتھر گرادے تو آنحضرت صلی علیکم کے پاس آسمان سے اس سازش کی خبر آئی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دار کر دیا کہ یہودی کیا کرنے والے ہیں۔آپ فوراً اپنی جگہ سے اٹھے اور اپنے ساتھیوں کو وہیں بیٹھا چھوڑ کر اس طرح روانہ ہو گئے جیسے آپ کو کوئی کام ہے۔آپ تیزی کے ساتھ واپس مدینہ تشریف لے گئے۔رسول اللہ صلی علیہ کم نے مدینہ پہنچنے کے بعد حضرت محمد بن مسلمیہ کو بنو نضیر کے پاس بھیجا اور یہ پیغام دیا کہ میرے شہر یعنی مدینہ سے نکل جاؤ۔تم لوگ اب میرے شہر میں نہیں رہ سکتے اور تم نے جو منصوبہ بنایا تھا وہ غداری تھی۔آنحضرت صلی ا ہم نے یہود کو دس دن کی مہلت دی لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم اپنا وطن ہر گز نہیں چھوڑیں گے۔اس پیغام پر مسلمان جنگ کی تیاری میں لگ گئے۔جب تمام مسلمان جمع ہو گئے تو آنحضرت صلی علیہ ظلم بنو نضیر کے مقابلے کے لیے نکلے۔جنگی پرچم حضرت علی نے اٹھایا۔آنحضرت صلی علیم نے ان کے قلعوں کا محاصرہ کر لیا اور ان کی مدد کے لیے کوئی بھی نہ آیا۔رسول اللہ صلی علیم نے بنو نضیر کی طرف لشکر کشی فرمائی تو عشاء کے وقت رسول کریم صلی الی نام اپنے دس صحابہ