اصحاب احمد (جلد 9) — Page 68
۶۸ اور محنت کا ثبوت دیا کہ فرائض دینی کی ادائیگی کے لئے مجھے آزادی تھی۔ایگزیکٹو انھیٹر کے پاس میرا امتحان دلایا جس میں میں کامیاب نکلا۔عجب نہ تھا کہ شیطان اسی راہ سے کامیابی کا منہ دیکھتا اور اصل مدعا میری نظروں سے اوجھل ہو جاتا۔کیوں کہ دنیا داری کا رنگ مجھ پر چڑھنے لگا تھا۔اور شیطان ایسے نہاں در نہاں راہوں سے آ رہا تھا کہ ہمیشہ کی طرح اللہ تعالیٰ غیب سے دستگیری نہ کرتا تو میں اس زہر آلود انگیں کو شیریں اور شفا بخش یقین کر کے نوش کر کے ہمیشہ کی روحانی موت کی نیند سو جاتا۔حضرت بھائی جی کے کام سے خوش ہو کر آپ کو جلد الگ حلقہ دلانے کا وعدہ حکام نے کیا تھا کہ اچانک والد صاحب کا تبادلہ عمل میں آیا۔اور چارج کے لئے اتنا کم وقت دیا گیا کہ بھائی جی کی ملازمت کے لئے مزید کسی کوشش کا موقعہ نہ ملا۔بلکہ ان کو جلد اپنے حلقہ میں پہنچ کر چارج لینا پڑا اور اہل وعیال کے لانے کا کام اپنے برادر زادہ راج کرن کے سپرد کیا جو نہایت متعصب تھے اور بات بات پر بھائی جی پر اعتراض کرتے تھے۔آپ منہ دھونے بیٹھیں تو وہ جھٹ شکایت کریں کہ دیکھو مسلمانی اس کے اندر سے نہیں نکلی۔مسلمانوں کی طرح دونوں ہاتھوں سے منہ دھوتا ہے۔بلکہ تین تین بار دھوتا ہے۔کھانے سے پہلے منہ میں گنگنا کر بسم اللہ پڑھتا ہے۔نہیں تو اونچا پڑھے تو ہمارا شبہ نکل جائے۔قضائے حاجت کے لئے جانے کا تو بہانہ ہوتا ہے ورنہ بھلا اتنی دیر لگا کرتی ہے۔اور وہ اتنی دور کیوں نکل جاتا ہے کہ کوئی دیکھ نہ لے۔وہ تو پیچھے رہ کر نماز پڑھتا ہے۔راج کرن اور بھائی جی کی آپس میں ہاتھا پائی اور لاٹھی سوٹے تک بھی نوبت پہنچی۔بالآ خر قافلہ والد کے ہیڈ کوارٹر موضع لدھڑ میں پہنچا۔پڑو پیاں۔بہلول پور اور ریلوے سٹیشن سالا روالا وغیرہ اس کے حلقہ میں شامل تھے۔سابقہ حلقہ کے خلاف یہ تمام مسلمانوں کے گاؤں تھے۔جن کو دیکھ کر بھائی جی کو بہت خوشی حاصل ہوئی۔لیکن تعارف پر معلوم ہوا کہ ان شکیل مسلمانوں کی رونق مجالس چھوڑے حقے تھے۔یہ نام کے مسلمان تھے۔مسجد اور ملاں کی موجودگی کے باوجود کبھی اذان نہیں سنی گئی اور یہی لوگ تھے جنہوں نے آپ کو مسلمان یقین کرتے ہوئے قادیان سے پکڑ کر دشمنان اسلام کے سپرد کرنے اور انہیں مرتد کرانے کی کوشش کی تھی۔قادیان کی یاد اور والد صاحب کا مقصود و مراد حضرت اقدس اور دارالامان کے مقدسین کی یاداب پھر ستانے لگی۔اور خواہش ہوتی کہ آپ اڑ کر