اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 41 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 41

ام ہی واپس ہوئے اور بازار کے ہندوؤں کو تو علم ہی تھا وہ اس نظارہ کا معائنہ کرنے دکانوں پر کھڑے ہو گئے اور اس طرح ایک بھیڑ اس اجڑے بازار میں نظر آنے لگی۔مسجد مبارک کی کو چہ بندی سے نکلتے ہی میری نظر میرے آقائے نامدار فداہ روحی سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر پڑی۔جبکہ حضور فصیل کے پلیٹ فارم پر ٹہل رہے تھے۔حضور پر نور کو دیکھ کر میرے دل میں جذبات محبت و شکر گذاری کا ایک سمندر موجزن ہو گیا۔اور اس طرح اچانک پکڑے جانے کا جوصد مہ اور افسردگی میرے دل پر مستولی تھی دور ہو کر بشاشت، خوشی اور اطمینان مل گیا۔اور میں نے والد صاحب کو دور ہی سے بتا دیا کہ وہ ہمارے حضرت صاحب ہیں۔حضرت اقدس سے والد صاحب کی ملاقات والد صاحب ہوشیار آدمی تھے۔اشارہ پاتے ہی سنبھل گئے اور نہایت مود بانه و نیاز مندانہ رفتار اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی جیب سے کچھ روپے نکال کر مٹھی میں لے لئے۔قریب پہنچ کر ہندوانہ طرز پر ہاتھ جوڑ کر سلام کر کے نذرانہ پیش کیا۔حضور نے سوال کا جواب تو دیا مگر نذرانہ قبول نہ فرمایا۔اور با وجود والد صاحب کے اصرار کے قبول کرنے سے انکار فرما دیا۔حضور نے نہایت شفقت اور مہربانی سے اول خیریت پوچھی اور پھر آمد کا مقصد و غایت دریافت فرمائی اور ایسے طریقے سے حضور نے کلام فرمایا کہ میرے والد صاحب کا سہما ہوا دل اور مرجھایا ہوا چہرہ بشاش ہو گیا۔اور اس طرح وہ کھل کر عرض حال کرنے کے قابل ہو گئے۔نہ معلوم ان کے دل میں کیا کیا خیالات پیدا ہورہے تھے جبکہ وہ تنہا میرے ساتھ ہمارے ڈیرہ کی طرف آرہے تھے۔اور ان کے حمایتی منصونہ باز اور سازشی لوگوں میں سے کوئی بھی ان کے ساتھ نہ ہوا۔بلکہ بر خلاف اس کے وہ چاروں طرف میرے محسنوں بزرگوں دوستوں اور بھائیوں کا ہجوم دیکھتے آ رہے تھے۔حضور کی محبت و شفقت اور نرمی و پاکیزہ اخلاق نے ان کی کمر ہمت باندھ دی اور اس طرح وہ آزادنہ طور پر اپنا مقصد اور دلی غرض وغایت حضرت اقدس کے حضور پیش کر سکے۔قریباً نصف گھنٹہ تک حضور نے ان کے معروضات نہایت توجہ سے سنے اور دوران گفتگو میں حضور اس پلیٹ فارم پر شمالاً جنوبا ٹہلتے رہے کہیں کہیں حضور ان کی دلجوئی اور تسلی کے لئے بعض ناصحانہ فقرات فرماتے اور بعض غلط خیالات کا ازالہ بھی فرماتے رہے۔جب میرے والد صاحب دل کھول کر سب کچھ عرض کر چکے تو سیدنا حضرت اقدس نے مجھے الگ لے جا کر پوچھا۔”میاں عبدالرحمن ! تمہاری کیا مرضی ہے؟“