اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 34 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 34

۳۴ بہت محبت کا سلوک کرتے تھے۔اس زمانے میں صرف چند لوگ قادیان میں رہتے تھے۔قادیان کی پر لطف زندگی اور سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت اور حضور کے چہرہ مبارک کی محبت نے میرے دل سے واپسی کے خیالات بالکل ہی نکال دیئے اور میں نے اظہار اسلام کر کے باہر چلے جانے کی بجائے اسی زندگی کو ترجیح دے لی اور فیصلہ کر لیا کہ اب جینا مرنا یہیں ہو تو خوشی ہے۔میرا سامان سیالکوٹ ہی میں رکھا تھا۔میں نے چاہا کہ ایک مرتبہ سیالکوٹ جاؤں، سامان بھی لے آؤں اور سید بشیر حیدر صاحب سے ملاقات بھی کر آؤں۔مگر مولوی عبد الکریم صاحب نے بجائے اس کے کہ میرے لئے حضرت اقدس سے اجازت حاصل کرتے خود ہی فرمایا کہ سیالکوٹ جانے کی ضرورت نہیں سامان ہم یہیں منگا لیتے ہیں اور بشیر حیدر بھی خود آکر مل جائے گا۔میں نے عرض کیا کہ بہت اچھا جس طرح آپ فرماتے ہیں یہی ٹھیک ہے۔میرے جواب سے حضرت مولوی صاحب خوش ہوئے اور مجھے دعا دی اور سامان کے واسطے اسی روز خط لکھ دیا۔جونہیں معلوم کسی آنے والے کے ہاتھ یا پارسل ہو کر جلدی آ گیا۔اور مجھے مل گیا۔اس کے کچھ عرصہ بعد سید بشیر حید ر صاحب بھی آئے اور مل گئے۔میں کچھ شرمیلا زیادہ تھا جس کی وجہ سے زیادہ میل جول کا عادی نہ تھا۔تنہائی مجھے زیادہ اچھی لگتی تھی۔اسی وجہ سے میرا حلقہ تعارف بہت محدود رہتا اور جن سے کسی مناسبت کی وجہ سے تعلق ہو گیا انہی کے ساتھ مل جل لیا کرتا۔نمازوں اور درس، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت، مسجد اور ہمرکابی سیر کو اپنی نہایت ہی مرغوب چیز یقین کرتا تھا۔نماز حضرت مولانا عبد الکریم صاحب پڑھایا کرتے جن کی قرآن خوانی کا میں بلکہ ہر ایک ہی عاشق تھا۔ان کی قرات میں ایسا سوز اور گذار ہوا کرتا تھا کہ رقت پیدا ہو جایا کرتی۔صبح کی نماز کی قرات سے غفلت کی نیند سونے والے جاگ اٹھا کرتے اور جن کی نیند کو موذن کی آواز کھول نہ سکتی اس قرات کی سُریلی آواز سے چونک کھڑے ہوتے تھے۔مجھے ٹھیک یاد نہیں دو اڑھائی یا تین مہینے کے قریب زمانہ قادیان میں رہتے ہوا ہوگا۔اور اگر چہ میری رہائش بالکل مسافرانہ تھی کیونکہ کوئی گھر تھا نہ گھاٹ۔ایک الماری حضرت مولانا نورالدین صاحب کے مطب میں ملی ہوئی تھی۔وہی میرا گھر تھا۔تعلیم کا کوئی خاص انتظام نہ تھا۔اور خوراک و پوشاک اور دوسری ضروریات کا بھی خدائے واحد ویگانہ کے سوا کوئی کفیل نہ تھا۔گھر سے یا تا یا صاحب سے جو کچھ لایا تھا اسی پر ابھی گذارہ ہوتا تھا مگر باوجود ان باتوں کے میرا دل اپنے وطن اور ماں باپ کے گھر سے زیادہ مطمئن اور خوش تھا۔اور قادیان سے باہر جانے کا وہم بھی مجھے نہ آتا تھا۔