اصحاب احمد (جلد 9) — Page 31
۳۱ اسلام کا شوق ہے میں جوان ہوں نابالغ نہیں وغیرہ۔اس پر اللہ تعالیٰ نے میرے آقائے نامدار کو انشراح بخشا اور حضور پر نور نے مجھے قبول فرما کر اپنی زبان مبارک سے کلمہ پڑھایا اور داخل اسلام کیا۔گویا کلمہ پڑھانا ہی مجھے اسلام واحمدیت میں داخل کرنا تھا۔ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت نہیں لی گئی۔فالحمد لله - الحمد لله رب توفنى مسلماً والحقني بالصلحين غالبا اکتوبر ۱۸۹۵ء کا زمانہ تھا جب میں دارالامان قادیان پہنچا اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل ورحم سے ہوا۔میری کسی کوشش یا سعی کو اس میں کوئی بھی دخل نہ تھا۔میں قادیان کے نام سے بھی نا آشنا تھا۔اور نہ جانتا تھا کہ قادیان ہے کدھر۔دو تین ماہ قبل کپورتھلہ سے اپنے سسرال کو جاتے ہوئے بھی بٹالہ سے ڈیرہ بابا نانک کو گیا تھا۔قادیان کا کوئی علم ہوتا تو تبھی چلا آتا۔سرال جانا میرا اصل مقصد تو تھا نہیں۔اصل مقصد تو وہی تھا جو خدا نے اب میسر فرمایا۔تاریخیں اور مہینے مجھے ٹھیک تو یاد نہیں۔تخمینہ اور اندزہ سے میں سمجھتا ہوں کہ غالباً اکتوبر ہی کا مہینہ ہوگا۔اور وہ بھی زیادہ سے زیادہ اکتوبر کا ابتداء یا ستمبر کا آخر مگر ۱۸۹۵ء میں تو قطعا قطعا کوئی شبہ نہیں۔فرق ہوگا تو دنوں یا زیادہ سے زیادہ ہفتوں کا ہوگا۔اور یہ امر بھی یقینی ہے کہ اکتوبر کے ابتداء سے وہ زمانہ کسی حال میں بھی آگے نہیں جاتا کچھ پہلے ہو تو ہو * حضرت بھائی جی کے بیان میں دو قوی قرائن ہیں جن سے آپ کی تاریخ ورود قادیان کی مزید تعین ہو جاتی ہے۔ایک یہ کہ سفر ڈیرہ بابا نانک کے لئے رفقائے سفر میں آپ کا نام بھی پیش ہوا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کے گاؤں کا قرب ہے۔ایسانہ ہو کہ کوئی رشتہ داران کو دیکھ کر پیچھے پڑ جائے اور ہمارے سفر کی غرض ہی فوت ہو جائے اور یہ سفر ۳۰ ستمبر ۱۸۹۵ء کو کیا گیا تھا۔دوسرا قرینہ یہ ہے کہ آپ جمعہ پڑھنے کی نیت سے جمعرات کو سیالکوٹ سے روانہ ہوئے تھے لیکن یکہ بان نے سواری کی تلاش میں دیر لگا دی۔اس طرح جمعہ نہ ملا۔اواخر ستمبر میں ۲۷ کو جمعہ تھا۔گویا ۲۷ /ستمبر تک بھائی جی ضرور قادیان پہنچ چکے تھے۔۳۰ ستمبر کے سفر کے لئے بھائی جی کا بیان ہے کہ بڑی کوشش سے یکے تیار کرائے گئے رفقائے سفر میں سے تین سیالکوٹ اور لاہور میں قیام رکھتے تھے۔ان کو کئی روز قبل اطلاع دی گئی ہوگی۔میکوں کا انتظام بھی