اصحاب احمد (جلد 9) — Page 428
۴۲۸ کام کرتا ہے تو پھر اس کو موت کی پرواہ نہیں رہتی اور نہ اسے خدا تعالیٰ ضائع کرتا ہے۔اندرونی تقوی اور طہارت کا خیال کرنا چاہئے جن لوگوں کے دل اور دماغ میں صرف دنیا ہی رہ جاتی ہے وہ کس کام کے آدمی ہیں۔جو لوگ سچے دل کے ساتھ ، خلوص نیت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں، خدا تعالیٰ ان کی دستگیری کرتا ہے۔اس قسم کے عیسائی نو مسلموں کی نسبت تو ہم نے ان لوگوں کو بہت ثابت قدم دیکھا ہے جو ہندوؤں میں سے مسلمان ہوکر ہمارے پاس آتے ہیں جیسا کہ شیخ عبدالرحیم صاحب۔سردار فضل حق صاحب ہیں۔شیخ عبدالرحمن صاحب شیخ عبد العزیز صاحب ہیں۔ان لوگوں نے اسلام کی خاطر بہت دکھ اٹھائے مگر اپنے ایمان پر قائم رہے۔جب سردار فضل حق صاحب مسلمان ہوئے تو ان کو قتل کرنے کے واسطے کئی ان کے ہم قوم ) یہاں آئے تھے۔مگر خدا تعالیٰ نے ان کو بچایا۔اور سردار صاحب نے کسی کا خوف نہ کیا۔ایسا ہی شیخ عبدالرحیم صاحب کے چہرے سے نیک بختی کے آثار نمایاں ہیں۔شیخ عبدالرحمن صاحب کو ایک دفعہ ان کے رشتہ دار دھوکے سے لے گئے تھے اور وہاں لے جا کر ان کو قید کر دیا تھا۔مگر خدا تعالیٰ نے ان کو بچالیا۔اور (وہ) خود بخود یہاں چلے آئے۔آپ کی تدفین فضل الہی کا ایک نشان تین سو تیرہ اصحاب بدر اور اصحاب الصفہ اصحابی کالنجوم کے مصداق آسمان روحانیت کے درخشاں و تاباں ستارے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جن صحابہ کو ان کے مثیل زمروں میں شمولیت کی سعادت حاصل ہوئی۔وہ عجیب شان کے قومی الایمان تھے۔ان کا مقام نہایت ارفع و اعلیٰ اور درخشندہ و تابندہ تھا اور وہ تا ابد الاباد زندہ و پائیندہ ہوئے ان میں حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب بھی شامل ہیں۔آپ نے تاریخ احمدیت کے زریں اوراق میں مقام پالیا۔ایس سعادت بزور تا نہ بخشد بازو نیست خدات بخشنده آپ عمر بھر دربار پر دھونی رمائے ، نہایت جاں شاری سے خدمت کی بجا آوری کے لئے ہمہ وقت پا بہ رکاب رہے۔اشارہ پاتے ہی یہ جا اور وہ جا۔اللہ تعالیٰ علیم بذات الصدور ہے اس نے غیر معمولی حالات پیدا کئے کہ آپ کو راجپوتانہ سے ایسے وقت میں قادیان لے آیا کہ حضرت اقدس علیہ السلام وصال والے