اصحاب احمد (جلد 9) — Page 420
۴۲۰ کا قلب صافی کلام اللہ اور مسجد سے معلق اور وابستہ ہے۔کیونکہ آپ تلاوت اور نماز با جماعت میں اپنی طاقت سے بڑھ کر کوشاں نظر آتے تھے۔آپ کو یہ امر حد درجہ مرغوب تھا۔اور اس کے لئے آپ کوشاں رہتے تھے کہ بیت الفکر اور مسجد مبارک کی درمیانی کھڑکی کے مغرب کی طرف اس جگہ بیٹھیں اور سنن ونوافل ادا کریں جہاں حضرت مسیح موعود مجلس میں تشریف فرما ہوتے تھے۔یا نماز ادا فرماتے تھے۔اسی طرح دیگر ایسے مقامات پر بھی باجماعت نماز کے وقت کھڑے ہوتے تھے جہاں حضور نے نمازیں پڑھی تھیں۔اور اس خاطر آپ نماز کے ابتدائی وقت میں مسجد میں تشریف لاتے تھے۔آپ کا سر نیاز دعاؤں کے لئے ہمیشہ درگاہ الہی پرخم رہتا۔آپ ہمارے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ تھے۔ہم آپ کی خدمت میں دعاؤں کے لئے عرض کرتے اور ہمیں اطمینان ہوتا۔مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب اور آپ کی بیگم صاحبہ محترمہ دعاؤں کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور دیگر افراد خاندان حضرت اقدس اور جماعت کے بلا مبالغہ ہزار ہا خطوط آپ کی خدمت میں پہنچے۔اور جب تک آپ کی صحت اچھی رہی۔تو ابتداء اپنے قلم سے اور بعد ازاں کسی دوسرے کے ذریعہ جواب بھجوا دیتے۔آپ نہایت رقیق القلب تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کرام سے شدید عشق تھا۔ان کے ذکر پر آپ کی آواز بھرا جاتی۔اور آپ آبدیدہ ہو جاتے اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی تکلیف کا علم ہونے پر آپ ماہی بے آب کی طرح تڑپتے۔۱۹۴۸ء میں حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب اور آپ جیسے بزرگوں کو جنہیں تقسیم ملک کے وقت حکماً قادیان سے نکلنا پڑا تھا۔قادیان بھجوانے کا مقصد حضور کے پیش نظر یہی ہوگا۔کہ ان بزرگوں کے تقوی ، تہجد گزاری ، عبادات میں انہماک ، رجوع الی اللہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود سے عشق ، اسلام پر فدائیت ، خلافت سے وابستگی وغیرہ کا اسوہ حسنہ درویشوں کے سامنے رہے اور قولاً اور فعلاً اپنے بلند معیار کے ذریعہ ہمارے لئے مشعل راہ ثابت ہوں۔اور در حقیقت ان کا ایسا ہی مقام تھا۔اور حضور کے دل میں ان کا حد درجہ احترام تھا۔چنانچہ مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کے نام ایک مکتوب میں حضور نے ان دونوں بزرگوں کو سلام لکھا۔( بحوالہ مکتوبات اصحاب احمد جلد اول صفحہ ۴۶) ۱۹۵۳ء والے خلاف احمدیت فسادات سے بہت قبل سید نا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنی دور بین نگاہ سے آئندہ پیش آنے والے حالات کو بھانپ لیا تھا۔چنانچہ حضور نے ان دونوں کو اپریل ۱۹۵۰ء میں ذیل کا مکتوب بذریعہ رجسٹری ارسال کیا تھا: