اصحاب احمد (جلد 9) — Page 395
۳۹۵ فرزند ، ایک صاحبزادی اور دو درجن پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں اپنی یادگار چھوڑی ہیں۔احباب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ حضرت بھائی جی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور آپ کی اہلیہ صاحبہ محترمہ اور اولاد کا دین ودنیا میں حامی و ناصر ہو۔آمین۔جنازہ لاہور میں 66 ۲۵۴ جنازہ ۱۲:۳۰ بجے لاہور پہنچا۔قریشی محمود احمد صاحب ایڈووکیٹ نے ایمبولینس کار کا ایکسپورٹ پرمٹ ، میڈیل سر ٹیفکیٹ اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے سرٹیفکیٹ کے حصول اور ضروری کاغذات کی تکمیل میں پوری مدد کی۔جو دھامل بلڈنگ میں دو بار جنازہ پڑھا گیا دوسری بار مکرم میاں محمد یوسف صاحب (صحابی ونائب امیر جماعت) نے جنازہ پڑھایا۔ایک سالم بس لے کر تمیں چالیس دوست بارڈر تک گئے۔حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے از راہ شفقت حضور ایدہ اللہ کی ایک کا ر بھی جنازہ والی ایمبولینس کے ساتھ ربوہ سے اس ہدایت کے ساتھ بھجوا دی تھی کہ جنازہ بارڈر عبور کر جائے تب واپس آکر تفصیل سے مطلع کرنا ہے۔* خاکسار کو اپنے بھائی کی ملاقات کے لئے جو نو سال کے بعد امریکہ سے آئے ویزا ملا جس میں صرف چھ دن میں پاکستان میں ٹھہر سکا۔4 جنوری کو صبح ربوہ پہنچ کر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے پہلی بات جو کی وہ یہ تھی کہ حضرت بھائی جی کی وفات واقع ہوگئی ہے اور آپ نے اس پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور فرمایا کہ نامعلوم اب جنازہ قادیان جا سکے گا یا نہیں۔میں نے عرض کیا کہ بھائی جی ہندوستانی باشندہ تھے اُمید ہے کہ جا سکے گا۔اسی شام کو لاہور جانا ملتوی کیا۔جنازہ کے انتظار میں خاکسار ٹھہرا رہا۔رات کو جنازہ کی زیارت کی اور پھر ہم دونوں نے صبح پونے چار بجے دیدار کیا اور ہم لاہور پہنچے۔وہاں جنازہ کا انتظار نصف روز کیا۔ربوہ میں جنازہ کی نماز ہوئی پھر لاہور میں دوبارہ جو دھامل بلڈنگ کے صحن میں نماز جنازہ ہوئی۔دوسری بار خاکسار کو بھی شرکت کا موقع ملا۔دوسری بار جناب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور نے نماز جنازہ پڑھائی تھی۔بعض اقارب سے تیرہ سال بعد ملاقات ہوئی تھی اور بعض گھر یلو معاملات طے کرنے تھے اور دوسرے روز قادیان وا پسی تھی۔پاسپورٹ صرف چند روز کا ملا تھا اور صرف چھ روز ہی خاکسار پاکستان میں رہ سکا تھا۔اس زمانہ میں پاسپورٹ کا حصول ہمارے لئے کٹھن معاملہ تھا