اصحاب احمد (جلد 9) — Page 381
۳۸۱ سرسری حساب کرنے سے ستائیس سور و پیران اینٹوں پر قرض ہو چکا ہے اور یہ دن بدن بڑھ رہا ہے۔”میرے دل میں بارہا آیا کہ عرض کروں کہ اس کی بازاری قیمت کا اندازہ کر کے ابھی کچھ رقم اپنے حصہ کی مقرر کر لیں تا ایسا نہ ہو کہ سارے کا سارا مکان ہی کھا جاؤں مگر بعض امیدوں کی بنا پر رکا رہا۔مزید یہ تاکید کرتے ہوئے کہ مکان کی قیمت جلد لگوا دی جائے تا کہ آپ اس کا حصہ جائدادا دا کرسکیں آپ نے یہ بھی تحریر کیا کہ ”میری اہلیہ کے پاس بھی آج کل کوئی جائداد۔۔۔نقد نہ زیور، زمین نہ مکان۔۔۔نہیں ہے۔اور وہ بھی میری طرح ایسی تحریک کے جواب میں خون جگر کھانے کے سوا کچھ کر نہیں سکتیں۔انا للہ وانا اليه راجعون۔-۴- نومبر ۱۹۲۹ء میں آپ نے دفتر کو تحریر کیا کہ آپ کے اعلان پر میں نے چھ ماہ پہلے عریضہ پیش کیا تھا کہ میں بے کار محض ہوں۔نہ میری کوئی آمد ہے نہ ذریعہ معاش۔اگر کہیں مزدوری بھی کی تو بعض وجوہ سے معاوضہ نہیں ملا۔-۵ پھر آپ نے جنوری ۱۹۳۰ء میں دفتر کو اپنے بیکار محض ہونے اور مکان کی اینٹیں کھانے کا اور مکان کا بار روز بروز بڑھتے جانے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ میں نے آپ کی تحریک پر عرض کیا تھا کہ میں زندگی میں حصہ جائداد ادا کرنا چاہتا ہوں۔میرے پاس آ جا کے ایک مکان ہے اس کی قیمت کا تخمینہ کر کے کوئی رقم معین کر دیں تا کہ میں اس معین رقم کی ادائیگی کی فکر کروں۔ورنہ بصورت موجودہ و بحالات پیش آمدہ کچھ دور نہیں کہ میں سارا مکان ہی پیٹوں کے گھاٹ اتار جاؤں۔“ فروری ۱۹۳۰ء میں افسر تعمیر حضرت سید ناصر شاہ صاحب کے پیش کردہ اندازہ مالیت کا لشخص یہ ہے: ا۔انیس مرله رقبه مع درختان شمر دار و غیره نرخ پچاس روپے فی مرلہ = ۹۵۰ ( ساڑھے نوسو) ب۔دو ہزار ستر مربع فٹ مکانیت نچلی منزل نرخ فی ستر مربع دوروپے ج۔رقبہ مکانیت برآمده چوبارہ پانصد باون مربع فٹ = ۴۱۴۰ ( چار ہزار ایک سو چالیس ) = ۵۵۲ ( پانچ صد باون)