اصحاب احمد (جلد 9) — Page 377
۳۷۷ لئے اور اپنی اولاد کیلئے ثواب کمالیں۔مقدار رقم سے صرف اور صرف یہی نیت نظر آتی ہے۔آپ حضرت خلیفہ مسیح الاول کی خدمت میں تحریر کرتے ہیں: اس کی زادراہ میں امداد کے واسطے میری اہلیہ نے روپیہ اور میں نے اپنی طرف سے (اور ) بچوں کی طرف سے موازی ۸ ( آٹھ آنے ) دینے کی نیت کی تھی۔۲۴۰ چونکہ وہ دوست نہ جا سکے تو آپ نے یہ رقم حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں پیش کر دی۔بھائی جی تو کمانے والے فرد تھے۔اگر ان کی توفیق نصف روپیہ پیش کرنے کی تھی تو آپ کی اہلیہ محترمہ نے نہ معلوم کتنی مدت میں پس انداز کر کے یہ روپیہ جمع کیا ہوگا۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ حضرت بھائی جی کو جب بھی کچھ مالی سہولت ملی ہے تو آپ نے فراخدلی سے چندہ دیا ہے۔حقائق اس کے شاہد ہیں۔مثلاً ا۔آپ نے چندہ منارہ اُسیح دیا۔چنانچہ آپ کا نام نامی شیخ عبدالرحمن قادیان ۱۶۲ نمبر پر منارة المسیح پر رقم ہے۔۲۔سفر کشمیر ۱۹۲۱ء میں چندہ جلسہ سالانہ کی تحریک پہنچنے پر آپ نے ایک من آٹے کی قیمت آٹھ ۲۴۱ روپے کا وعدہ کیا۔- تحریک تعمیر مسجد برلن میں خصوصا خواتین قادیان نے غیر معمولی قربانی کا نمونہ دکھلایا تھا۔حضرت بھائی جی کی اہلیہ محترمہ نے ایک سو روپیہ چندہ دیا تھا۔تحریک جدید کی ربانی تحریک میں دفتر اول میں گویا السابقون الاولون میں آپ شامل تھے۔اس - ۲۴۲ ۲۴۳ دور کے انیس سالوں میں آپ نے مع اہلیہ محترمہ ایک ہزار ایک سوا کا نوے روپے دیئے۔۵- بیٹوں نے آپ کو پانصد روپیہ دیا۔(جو اس زمانہ میں روپیہ کی قیمت کے لحاظ سے ایک خطیر رقم تھی۔خاکسار مؤلف کو بخوبی یاد ہے کہ آپ نے یہ ساری رقم کسی کار خیر میں پیش کر دی تھی۔۔خاکسار مؤلف کے پاس آپ کی ایک تحریر ہے جس میں آپ لکھتے ہیں کہ چندہ مسجد لندن اور چنده تراجم القرآن حتی الامکان ہر تحریک میں حصہ لینے کی آپ کو سعادت میسر آئی ہے۔اللہ تعالیٰ کے افضال حضرت بھائی جی نے وطن اقارب۔ورثہ کے حقوق اور دوست ترک کئے تو محض رضائے الہی کے