اصحاب احمد (جلد 9) — Page 345
۳۴۵ آپ کی ڈائریوں کا انتظار کرتے ہیں۔اور ڈاک کے آنے کے دن اول تو دفتر میں بہت سے لوگ جمع ہو جاتے ہیں سننے کیلئے۔اس کے بعد آپ کے خطوط اور حضرت صاحب کے مضامین مسجد اقصیٰ میں بعد عصر سنائے جاتے ہیں۔آپ کی اس مبارک سفر میں شرکت پر آپ کو مبارکباد عرض کرتا ہوں۔آپ سے دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں۔“ ( مرقومہ ۷ اکتوبر ۱۹۶۴ء) ۲- حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں: آپ کا خط مجھے بھی باقاعدہ ملتا ہے۔اس کا شکریہ علاوہ ڈائری کے ہے“۔( رقم کر دہ ۱۷۱۴ کتوبر ۱۹۶۴ء) ایک شہادت کیلئے آپ جہلم گئے تھے وہاں سے تحریر فرمایا : ” آپ کی ڈائری اور خط پہنچا۔جزاکم اللہ۔یہ خط عدن میں آپ کو ملے گا۔پورٹ سعید بلکہ جہاز پر سوار ہوتے ہی غالبا آپ کو ڈاک بھیجنی بند کرنی پڑے گی۔کیونکہ آپ بھی قریباً ڈاک کے ساتھ ساتھ ہی آئیں گے۔اور ہمیں آپ کے قادیان آنے سے پہلے ۲۰ / اکتو بر ( ا ) ۱۷ رنومبر کی ڈاک مل سکتی ہے۔۔۔۔چونکہ سفر کے سارے حالات معلوم ہونے ضروری ہیں اس لئے عدن سے بعد کے جو حالات ہوں آپ ان کی ڈائری بناتے جائیں وہ بمبئی اور قادیان میں آپ سے دستی لے کر پڑھی جائیں گی۔یہ نہ خیال فرماویں کہ چونکہ اب ڈائری نہیں پہنچ سکتی اور ہم خود سنا دیں گے اس لئے لکھنا فضول ہے۔پس ضرور تمام سفر کے حالات آخر تک مرتب فرما دیں۔آپ کی محنت کے ہم سب مشکور ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ پر راضی ہو اور آپ اس سے راضی ہوں ہم تو یہاں پر اہل قافلہ میں سے ) ہر ایک کے لئے نام بنام دعا کرتے ہی رہتے ہیں۔۔۔( محرره بتاریخ ۲۳ را کتوبر ۱۹۶۴ء) ۳- حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ۲۶ اکتوبر کو رقم فرماتے ہیں: آپ کی ڈائریاں قادیان میں جس شوق سے پڑھی اور سنی جاتی ہیں اس کی اطلاع آپ تک پہنچ چکی ہوگی۔واقعی آپ نے یہ خدمت سرانجام دے کر قادیان والوں بلکہ تمام جماعت پر ایک بڑا احسان کیا ہے۔جزاک اللہ۔۔۔احباب کی ایک اور خدمت بھی حضرت بھائی جی نے کی کہ جن احباب نے حضور کی خدمت میں دعاؤں کے لئے رقعہ جات دیئے تھے۔حضور کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے آپ نے ان کی فہرست تھے۔حضور کی خدمت مرتب کر لی تھی۔