اصحاب احمد (جلد 9) — Page 338
۳۳۸ دہلی کے اسٹیشن پر بہت سی جماعتیں آئی ہوئی تھیں۔وہاں چلنے کو راستہ نہ ملتا تھا۔دہلی اور شملہ کی جماعتوں نے ایڈریس پیش کیا۔۲۳ نومبر کی صبح کو دہلی سے براستہ انبالہ روانگی ہوئی۔وہاں کی جماعتیں ملاقات کے لئے آئیں۔بعض جگہ اردگرد کے علاقہ کی جماعتیں موجود تھیں۔امرتسر اسٹیشن پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔جماعت احمدیہ کا مبارکباد اور خیر مقدم کا بلند جھنڈا لہرا رہا تھا۔قائم مقام امیر جماعت احمدیہ لا ہو ر حضرت قریشی محمد حسین صاحب نے ایڈریس پڑھا۔ابجے رات ٹرین بٹالہ پہنچی۔جماعت قادیان کی طرف سے استقبال کا انتظام تھا۔بٹالہ اور ضلع گورداسپور کے احباب بھی موجود تھے۔حضور نے رات بٹالہ میں قیام فرمایا۔وہاں سے حضور کا قافلہ ۲۴ نومبر کی صبح کو سات بجے موٹر پر روانہ ہو کر آٹھ بجے قادیان کے موڑ پر پہنچا۔۱۷- قادیان میں استقبال اور دعائیں ۲۴ نومبر کو سورج نکلنے سے پہلے قادیان اور بیرون کے مردوزن۔بچے۔بوڑھے قادیان بٹالہ کے مقام اتصال پر جمع ہونے لگے۔کوئیں کے پاس کھیت میں شامیانے لگائے گئے۔قطعات اور جھنڈیاں لگا کے سجایا گیا۔فرش اور بینچ بیٹھنے کے لئے بچھائے گئے تھے۔سڑک پر ایک دروازہ بنایا گیا جس پر اھلاو سهلاً ومرحبا اور دیگر قطعات آویزاں تھے۔احباب کو سڑک سے شامیانوں تک کھڑا کیا گیا تھا۔سب سے آگے حضرت مولوی شیر علی صاحب (امیر جماعت احمد یہ ہند ) حضرت میر محمد اسحق صاحب اور خاندان حضرت اقدس علیہ السلام کے نونہالان کھڑے تھے۔کچھ فاصلہ پر موٹر کی اور حضور نے کہلا بھیجا کہ ہر ایک شخص اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرار ہے۔آہستہ آہستہ موٹر چلی۔چوہدری علی محمد صاحب نے سبز جھنڈا پکڑا ہوا تھا۔مجمع سے تھوڑی دور حضور موٹر سے اتر پڑے۔حضور کے رفقاء دو قطاروں میں حضور کے پیچھے تھے۔دروازہ کے پاس حضرت مولوی شیر علی صاحب نے مصافحہ کیا اور ہار ڈالا۔پھر حضرت میر صاحب نے مصافحہ اور معانقہ کیا۔حضور نے خاندان حضرت اقدس علیہ السلام کے بچوں کو پیار کیا۔دو ہزار احباب نے حضور سے مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔غیر از جماعت۔آریہ سماجیوں ہندوؤں اور قادیان اور ارد گرد دیہات کے سکھوں اور ادنیٰ کہلانے والی اقوام کے افراد نے بھی۔ضعیف اور بیمار افراد بھی ملاقات کیلئے پہنچے ہوئے تھے۔سب کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب اور حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب سے حضور نے معانقہ کیا۔