اصحاب احمد (جلد 9) — Page 337
۳۳۷ لی جنرل سیکرٹری مسلم کمیونٹی اور ایک ممتاز الجیرین مسلم لیڈر ( ممبر سپریم کونسل ) نے حضور سے ملاقاتیں کیں۔حضور نے اپنے ساتھیوں کو تین حصوں میں تقسیم کر کے تبلیغ کرنے کے لئے ہدایات دیں۔لارڈ کر یو برطانوی وزیر سے ملاقات میں حضور نے ہندوستان کے حالات حاضرہ کے بارے گفتگو کی۔وہاں کی سرکاری نو تعمیر شدہ مسجد میں پہلی نماز حضور نے پڑھائی۔۱۹۷ ۱۶ - بمبئی میں استقبال مفتی محمد صادق صاحب کا ایڈریس پیش کرنا گاندھی جی سے امن و آزادی کے بارے ملاقات۔بٹالہ تک جماعتوں کی ملاقاتیں حضور کا قافلہ پیرس سے وینس (اٹلی) پہنچا۔جہاں سے بحری جہاز کے ذریعہ ۱۸/ نومبر ۱۹۲۴ء کو بمبئی پہنچا۔ابھی جہاز دور ہی تھا کہ حضور نے دور بین کے ذریعہ ساحل پر منتظر احباب کو پہچان کر ان کے نام لینے شروع کئے۔احباب ساحل پر بے قرار تھے۔ان کی بیقراری اس وقت دور ہوئی جب چودھری علی محمد صاحب نے تختہ جہاز سے سبز جھنڈا ہلایا۔اور انہیں حضور کی تشریف آوری کا یقین ہو گیا۔دوسو احباب نے نہایت گرمجوشی سے حضور کا استقبال کیا جو رنگون۔مالا بار۔کراچی۔پشاور۔پنجاب۔بنگال۔بہار۔یوپی اور سی پی سے آئے تھے۔حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب نے ساری جماعت ہند کی طرف سے حضور کی خدمت میں خیر مقدم کا ایڈریس پیش کیا۔اس وقت اور بعد میں نمائندگان اخبارات نے سفر یورپ کے بارے حضور سے انٹرویو لئے۔حضور کا قیام نواب سید محمد رضوی صاحب کے ہاں ہوا۔جن سے سارے قافلہ کو ہر طرح آرام ملا۔یہاں گاندھی جی سے علی برادران اور مولانا آزاد کی موجودگی میں حضور کی ملاقات ہوئی جس میں ہندوستان کے امن و آزادی اور ہندو مسلم اتحاد کے بارے گفتگو ہوئی۔حضور ۲۱ نومبر کو آگرہ پہنچے۔وہاں یو۔پی کی جماعتوں کے ایک سو نمائندے اور بعض رؤساء اور چالیس پنجابی غیر از جماعت افراد نے حضور کا استقبال کیا۔مولوی غلام احمد صاحب بدوملہی فاضل نے مجاہدین ملکانہ اور جماعت احمدیہ آگرہ کی طرف سے ایڈریس پیش کیا۔حضور تبلیغ ملکانہ کے مشہور تاریخی مقام ساندھن تشریف لے گئے۔وہاں ایڈریس پیش کیا گیا۔بیعت ہوئی۔وہاں سے اچھنیر ہ اسٹیشن کے ذریعہ متھرا پہنچ کر قافلہ اسی رات دہلی پہنچا۔