اصحاب احمد (جلد 9) — Page 328
۳۲۸ جو سپاہی وہاں فوت ہوئے ان کی یادگار میں وہاں ایک چھتری انتیس فٹ اونچی بنائی گئی ہے اور چوالیس ایکٹر وسیع رقبہ میں کئی ایکڑ کا باغ لگایا جانا تھا۔حضور مع خدام وہاں تشریف لے گئے اور حضور نے تقریر فرمائی جس کا خلاصہ حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر نے پریس کو بتایا۔تقریر میں حضور نے بتایا کہ یہ یادگار چھوٹے سے چھوٹے رنگ میں دنیا کو ایک مقصد کے لئے جمع کرنے کا نشان ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا کو ایک دین پر جمع کرنے کے مقصد سے آئے تھے۔اس مقصد اتحاد میں شرقیت و مغربیت کا لحاظ نہیں۔تمام دنیا کو دین واحد پر جمع کرنا مقصد ہے۔سو میں یہ دعا کروں گا کہ جس طرح یہ چھتری نشان ہے ان لوگوں کا جو دنیا کی ایک غرض کے لئے متحد ہوئے۔اسی طرح مشرقی اور مغربی لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ چھتری کے نیچے جمع ہو جائیں اور یہ حقیقی چھتری قائم ہو جائے۔اس کے بعد حضور نے لمبی دعا کی۔یہ سارا نظارہ سینما میں دکھایا گیا۔پھر حضور ایوان شاہی میں گئے جہاں کارپوریشن کے ڈاکٹر اور دیگر ممبروں نے استقبال کیا اور سارا ہسپتال دکھایا اور جو کچھ ہندوستانی زخمی سپاہیوں کے آرام کے لئے کیا گیا تھا اس کی تفاصیل بتائیں۔یہاں حضور کے پیغام کا ترجمہ جناب چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے پڑھ کر سنایا۔جس کے جواب میں ڈاکٹر موصوف نے حضور کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔حضور نے اس پیغام میں برائٹن کی کارپوریشن، وہاں کے باشندگان اور سارے برطانیہ کا شکر یہ ادا کیا کہ انہوں نے ہمارے ہندوستانی زخمیوں سے برادرانہ سلوک کیا۔مزید یہ بھی فرمایا کہ ہندوستان جس کا میں خود ایک باشندہ ہوں ، بلوغت کی سرحد پر کھڑا ہے۔برطانوی سلطنت ایک عظیم الشان تجربہ ہے۔جس کی کامیابی پر دنیا کی آئندہ ترقی کا بہت کچھ انحصار ہے۔ہمیں اپنے ذاتی مفاد اور تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر اسے کامیاب بنانے کی کوشش کرنی چاہئیے۔برائٹن جس نے ہندوستانی مردوں کی عظمت کی ہے اور ان کی یاد کو تازہ رکھا ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ ہندوستان کے زندوں سے تعلقات بڑھانے میں وہ دوسروں سے آگے رہے گا۔اس طرح وہ فی الواقع برائٹ ٹاؤن بن جائے گا اور صلح و امن کے لئے شمع بردار کا درجہ حاصل کرے گا۔میں اس دعا پر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالی برٹش ایمپائر کو انصاف۔امن اور آزادی کے قیام کی توفیق دے۔-۳- برائن سے حضور ایوان شاہی کو گئے جہاں حضور نے اپنا پیغام پڑھا اور اس کا ترجمہ محترم ۱۸۲ ۱۸۳ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے سنایا۔