اصحاب احمد (جلد 9) — Page 318
۳۱۸ میں جو تکالیف ہیں وہ پیغام امن لے جانے والے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لئے نہیں جو مئے روحانی کے نشہ میں سرشار ہیں۔مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یقین ہے کہ میں جو ایک شخص کا نام لے کر تعریف کرنے لگا ہوں وہ تعریف اس جہاد میں جانے والوں کے اخلاص وصدق و وفا کے جذبات کو ریاء سے تبدیل نہیں کرے گی۔ان میں ایک ہی چیز ہے۔اسی کے لئے جزا ء اور اسی کے لئے وفا۔و میں نے شیخ عبدالرحمن قادیانی کو دیکھا ہے کہ زمین اس کے لئے لپیٹیجاتی تھی۔لوگ اس کو مبالغہ سمجھ سکتے ہیں مگر میں کیا کروں میں نے تو جو آنکھوں سے دیکھا وہ بیان کرتا ہوں۔پچھلی کہانیوں میں پڑھا کرتے تھے کہ ایک ولی اللہ ظہر کی نماز کے وقت فلاں جگہ دیکھے گئے اور عصر کے وقت فلاں جگہ پر۔یہ خیالی باتیں نظر آتی تھیں مگر آج واقعات بتا رہے ہیں کہ خدا اپنے بندوں کے لئے کیا کرشمے اور عجائبات قدرت دکھاتا ہے۔سمجھ میں آسکتا ہی نہیں کہ ایک شخص کس طرح پر پیادہ پا، بھوکا پیاسا دو چار نہیں پچھیں تھیں میل کا سفر چند گھنٹوں میں کرسکتا ہے۔ہمارے ساتھ شیخ صاحب موصوف کو چلنا پڑا۔ہم خود سوار تھے وہ ہم سے الگ ہو کر سب سے پہلے ایک مقام سے روانہ ہوتے ہیں اور کئی مقامات کا دورہ کر کے پھر ہم کو آ ملتے ہیں اور تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت چوتھا وقت ہے کہ کچھ کھایا نہیں۔روٹی کا ایک لقمہ بھی اس شخص کے حلق میں نہیں اترا۔کیا یہ معجزہ نہیں کہ ایک شخص شدت دھوپ میں سفر کر رہا ہے اس کو کھانے کے لئے کچھ بھی چار وقت سے نہیں مل سکا۔اور آرام کرنے کا کوئی موقعہ ہی نہیں ملا۔پھر اس کوفت اور سفر کی اس طوالت نے اس کے عزم اور حوصلہ میں کوئی کمی پیدا نہیں کی؟ وہ پھر بھی سارے قافلہ سے زیادہ ہوشیار اور تیز اور آگے ہے۔مؤلف کے استفسار پر حضرت بھائی جی تحریر فرماتے ہیں کہ مالکانہ میں جانے والے پہلے وفد میں میں قبول کیا گیا تھا اور حضور نے خوش ہو کر میری خدمات سے مجھے تین ماہ بعد واپس بھی نہ آنے دیا۔بلکہ حکم دیا کہ وہیں رہو۔چنانچہ کم و بیش نو دس ماہ وہاں خدمات بجا لاتا رہا اور میری رپورٹوں کو حضور نے ایسا نوازا اور پسند فرمایا کہ نوجوان مبلغین کے لئے بطور مثال پیش فرمایا کرتے۔اور نائب المجاہدین حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ حضور کا حکم خاص پہنچا تھا کہ عبد الرحمن قادیانی کی رپورٹوں کو محفوظ رکھا جایا کرے ۱۶۷