اصحاب احمد (جلد 9) — Page 280
۲۸۰ علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے شامل تھے اور حضرت مولانا شیر علی صاحب ، حضرت مولانا سید محمد سرورشاہ صاحب، حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال اور ” حضرت شیخ عبدالرحمن قادیانی صاحب“ (رضی اللہ عنھم ) بھی۔حضور کا ارشاد تھا کہ۔اس موقع پر کسی ذاتی غرض کے لئے دعانہ کی جائے۔بلکہ صرف اسلام کی شوکت کے لئے دعا کی جائے۔“ اور حضور نے ان احباب سمیت اس کمرہ میں دعا کی۔اور ہم جو مکان کے بیرونی دروازہ کے سامنے اور قریب گلی میں تھے وہ بھی اس اجتماعی دعا میں شریک تھے۔فالحمد للہ۔خلافت ثانیہ میں بعض خدمات -1 حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اگست ۱۹۱۴ء میں ایک ریلیف فنڈ کے جلسہ کی خاطر ہمعیت حضرت مولوی شیر علی صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت مفتی محمد صادق صاحب ، حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی و بعض دیگر احباب گورداسپور تشریف لے گئے۔یکم ستمبر ۱۹۱۴ء کو حضرت مولوی شیر علی صاحب ، حضرت عبدالرحمن صاحب قادیانی اور بعض دیگر احباب سلسلہ کے کام کے لئے گورداسپور تشریف لے گئے۔حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب کے تبلیغ کی غرض سے ۶ رستمبر ۱۹۱۵ء کو ولایت روانہ ہوتے وقت حضرت خلیفتہ اسیح الثانی مشایعت فرمانے کیلئے مع بزرگان و خدام ڈیڑھ دو میل تک تشریف لے گئے۔اور راستہ میں ہدایات دیتے رہے۔اور بٹالہ کی سٹرک کے موڑ پر حضور نے ایک لمبی اجتماعی دُعا کے ساتھ انہیں رخصت فرمایا۔ماسٹر عبدالرحیم صاحب و شیخ عبد الرحمن صاحب قادیانی امرتسر تک ساتھ گئے۔“ الفضل و ر ستمبر ۱۹۱۵ء۔زیر مدینتہ اسیح۔ماسٹر عبدالرحیم صاحب سے مراد حضرت نیر صاحب ہیں۔مؤلف ) پادری والٹر ایم۔اے سیکرٹری ایم سی اے لاہور ۱۹۱۶ء میں قادیان آئے۔بھائی جی بیان کرتے ہیں کہ پادری صاحب کے قیام اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی سے ملاقات کا انتظام میرے ذریعہ ہوا تھا۔(مؤلف کی مرتبہ مکتوبات اصحاب احمد جلد اول صفحہ ۶۶٬۶۵ میں پادری صاحب کی آمد اور ملاقات کا ذکر ہے۔)