اصحاب احمد (جلد 9) — Page 279
۲۷۹ موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام پہنچانا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ میں ہی موعود ہوں اور کوئی موعود قیامت تک نہیں آئے گا۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اور موعود بھی آئیں گے۔اور بعض ایسے موعود بھی ہوں گے جو صدیوں کے بعد پیدا ہوں گے۔بلکہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ایک زمانہ میں خود مجھ کو دوبارہ دنیا میں بھیجے گا۔اور میں کسی شرک کے زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لئے آؤں گا۔جس کے معنی یہ ہیں کہ میری روح ایک زمانہ میں کسی اور شخص پر جو میرے جیسی طاقتیں رکھتا ہوگا۔نازل ہوگی اور وہ میرے نقش قدم پر چل کر دنیا کی اصلاح کرے گا۔پس آنے والے آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کے دعووں کے مطابق اپنے اپنے وقت پر آئیں گے۔میں جو کچھ کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ پیشگوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اسی شہر ہوشیار پور میں سامنے والے مکان میں نازل ہوئی۔جس کا اعلان آپ نے اس شہر سے فرمایا اور جس کے متعلق فرمایا کہ وہ نو سال کے عرصہ میں پیدا ہو گا وہ پیشگوئی میرے ذریعہ سے پوری ہو چکی ہے۔اور اب کوئی نہیں جو اس پیشگوئی کا مصداق ہو سکے۔“ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کی پیشگوئی میں یہ خوشخبری بھی دی گئی تھی کہ ”خدا تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔چنانچہ مبلغین احمدیت نے مختصر تقریروں میں بتایا کہ کیسی شان سے یہ پیشگوئی پوری 66 ہو چکی ہے۔اختتام پر حضور نے غیر از جماعت افراد کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ مت سمجھیں کہ آپ خدا کی تقدیر کو پورا ہونے سے روک سکتے ہیں۔خدا کی تقدیر ایک دن پوری ہو کر رہے گی اور یہ سلسلہ تمام زمین پر پھیل جائے گا۔کوئی نہیں جو اس سلسلہ کو پھیلنے سے روک سکے۔میں آسمان کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں۔میں زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں۔میں ہوشیار پور کی ایک ایک اینٹ کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ یہ سلسلہ دنیا میں پھیل کر رہے گا۔اگر لوگوں کے دل سخت ہوں گے تو فرشتے ان کو اپنے ہاتھ سے ملیں گے یہاں تک کہ وہ نرم ہو جائیں گے اور ان کے لئے احمدیت میں داخل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔“ حضرت مصلح موعود کے منشاء کے مطابق حضرت صاحبزادہ بشیر احمد صاحب نے چلہ کشی والے مقدس کمرہ میں پینتیس احباب کو داخل کیا۔ان میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مرزا شریف احمد صاحب، حضرت مرزا ناصر احمد صاحب اور حضرت خان محمد عبد اللہ خاں صاحب سمیت پندرہ افراد حضرت مسیح موعود