اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 267 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 267

۲۶۷ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: محترم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک پرانے اور مخلص صحابی ہیں اور حضور کے ہاتھ پر ہندو سے مسلمان ہوئے تھے ، مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آخری سفر میں لاہور تشریف لے گئے اور اس وقت آپ کو بڑی کثرت کے ساتھ قرب وفات کے الہامات ہورہے تھے تو ان دنوں میں نے دیکھا کہ آپ کے چہرہ پر ایک خاص قسم کی ربودگی اور نورانی کیفیت طاری رہتی تھی۔ان ایام میں حضور ہر روز شام کے وقت ایک قسم کی بندگاڑی میں جو فٹن کہلاتی تھی۔ہوا خوری کے لئے باہر تشریف لے جایا کرتے تھے اور حضور کے حرم اور بعض بچے بھی ساتھ ہوتے تھے جس دن صبح کے وقت حضور نے فوت ہونا تھا اس سے پہلی شام کو جب حضور فٹن میں بیٹھ کر سیر کے لئے تشریف لے جانے لگے تو بھائی صاحب روایت کرتے ہیں کہ اس وقت حضور نے مجھے خصوصیت کے ساتھ فرمایا: میاں عبدالرحمن ! اس گاڑی والے سے کہہ دیں اور اچھی طرح سمجھا دیں کہ اس وقت ہمارے پاس صرف ایک روپیہ ہے وہ ہمیں صرف اتنی دور تک لے جائے کہ ہم اسی روپیہ کے اندر گھر واپس پہنچ جائیں۔“ روایات بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی) چنانچہ حضور تھوڑی سی ہوا خوری کے بعد گھر واپس تشریف لے آئے۔مگر اسی رات نصف شب کے بعد حضور کو اسہال کی تکلیف ہو گئی۔اور دوسرے دن صبح دس بجے کے قریب حضور اپنے مولیٰ اور محبوب از لی کے حضور حاضر ہو گئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضور کے وصال کا واقعہ اس وقت پچاس سال گذرنے پر بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے گویا میں حضور کے سفر آخرت کی ابتدا اب بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں مگر اس وقت مجھے اس واقعہ کی تفصیل بتانی مقصود نہیں بلکہ صرف یہ اظہار مقصود ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیوی مال و متاع کے لحاظ سے بعینہ اس حالت میں فوت ہوئے جس میں آپ کے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تھا۔حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت اپنی آخری بیماری میں جو کہ مرض الموت تھی جلدی جلدی مسجد سے اٹھ کر اپنے گھر تشریف لے گئے اور جو تھوڑا سا مال وہاں رکھا تھا وہ تقسیم کر کے اپنے آسمانی آقا کے حضور حاضر ہونے کیلئے خالی ہاتھ ہو گئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود نے بھی اپنی زندگی کے آخری دن اپنی جھولی جھاڑ دی تا کہ اپنے آقا کے حضور خالی ہاتھ ہو کر حاضر ہوں۔بیشک اسلام دنیا کی