اصحاب احمد (جلد 9) — Page 265
۲۶۵ ۹۳ نو احباب کے دستخط تھے۔ان میں ” عبد الرحمن صاحب کا نام شامل ہے۔استفسار پر بھائی جی فرماتے ہیں کہ یہ میرا نام ہے۔حضرت خلیفہ اول کے انتخاب اور نماز جنازہ کے بعد حضرت اقدس کا جسد اطہر تدفین سے پہلے آخری زیارت کے لئے اس مکان کے درمیانی کمرہ میں رکھا گیا تھا جو بہشتی مقبرہ کے شمال مغرب کی طرف ہے حضور کا چہرہ مبارک دکھانے کے لئے مجھے مقرر کیا گیا۔جسد اطہر اس چار پائی پر رکھا ہوا تھا جو لاہور سے ساتھ لائی گئی تھی۔اور اسی پر جسد اطہر بٹالہ سے قادیان تک لایا گیا تھا۔میں اس کمرہ میں اس چار پائی کے شمال میں حضور کے سر مبارک کی طرف زمین پر بیٹھ گیا۔پہلے مردوں نے اور پھر مستورات نے زیارت کی۔احباب صحن کی طرف مغربی دیوار کے جنوبی حصہ میں لگے ہوئے دروازہ سے صحن میں آکر کمرہ کے اندر آتے اور زیارت کر کے کمرہ کے شمالی دروازہ سے باہر نکلتے جاتے۔( از مؤلف ) آج ۱۲ ستمبر ۱۹۶۰ء کو خاکسار کے عرض کرنے پر حضرت بھائی جی ، ان کی اہلیہ محترمہ نیز مکرم مرزا مہتاب بیگ صاحب سیالکوٹی (سابق مالک احمد یہ درزی خانہ قادیان جواب پاسپورٹ پر ڈیڑھ ماہ سے آئے ہوئے ہیں ) تشریف لے گئے اور جنازہ والا کمرہ دکھایا۔اہلیہ صاحبہ بھائی جی نے بتایا کہ جنازہ مبارک کمرہ کی جنوبی دیوار کے دونوں مغربی دروازوں کے درمیان رکھا ہوا تھا صحن میں داخل ہونے والا دروازہ جو مغربی دیوار کے جنوبی حصہ میں ہے۔بھائی جی اور مرزا صاحب نے پہچانا آجکل ، وہ بند ہے۔ڈاٹ اور دروازہ کی شکل میں موجود ہے۔مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ میں جنازہ کے موقعہ پر حضرت میر حامد شاہ صاحب وغیرہ کے ہمراہ سیالکوٹ سے آیا تھا۔حضرت بھائی جی کی اہلیہ محترمہ نے بھائی جی کی موجودگی میں بیان کیا کہ اس کمرہ میں حضرت اقدس کا چہرہ مبارک دکھلانے کے وقت حضرت ام المومنین اس مکان کے صحن کے جنوب مغربی حصہ میں خواتین کے مجمع میں زمین پر تشریف فرما تھیں میں وہاں پہنچی تو فرمایا بیٹی تمہیں مبارک ہو تمہارا خاندان متبرک ہو گیا ہے۔تمہارے میاں کی گود میں حضرت مسیح موعود کا سر تھا حضور کی وفات ہوئی۔اندر جا کر اپنے میاں کے خاکسار مؤلف نے ماسٹر عبد الرحمن صاحب سابق مہر سنگھ کے حالات میں (اصحاب احمد جلد ہفتم صفحہ ۱۲۰ میں ) حوالہ ہذا میں ان کو مرا دلکھا ہے جو سہو ہے جو ” جالندھری“ کے طور پر معروف تھے، نہ کہ ”قادیانی“ کے طور پر۔حقیقتاً اس سے مراد حضرت بھائی جی ہیں جو قادیانی کہلاتے تھے اور ماسٹر بھی عرصہ تک رہے ہیں۔