اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 261 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 261

۲۶۱ کے مفتریا نہ اعتراضات کا جواب دے سکیں اور ان کے وساوس سے نجات دے سکیں۔سو جماعت کے تمام لائق اہل علم اور دانشمند احباب ۲۴؍ دسمبر تک تمام کتب کا مطالعہ کر کے تیاری کر لیں۔ان سے دسمبر کی تعطیلات میں تحریری امتحان لیا جائے گا۔اور کامیاب ہونے والے افراد اس لائق ہونگے کہ ان میں سے بعض کو دعوت حق کے لئے مناسب مقامات پر بھیجا جائے۔حضرت خلیفتہ اُمسیح الاول نے ۱۶ار جولائی ۱۹۰۸ء کو درس قرآن مجید کے موقعہ پر ا حباب کو توجہ دلانے کے لئے اس اشتہار کی اشاعت کرنے کی تاکید فرمائی تا احباب دسمبر میں امتحان دے سکیں اور فرمایا: احباب توجہ کریں اور عبد الرحمن پوری توجہ کرو۔۲۱- ایک ابتلاء باعث اصطفاء بیان حضرت بھائی جی: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کا ایک ممتاز پہلو یہ تھا کہ آپ اپنے خاندان کے اس حصہ کے ساتھ بھی جو ہمیشہ آپ کے مخالف اور درپے آزا رہتا تھا ،حسن سلوک اور مہر بانی فرماتے تھے۔اپنے خاندان کے اس مخالف حصہ کے ایک فرد محترم مرزا محمد احسن بیگ صاحب رضی اللہ عنہ رشتہ میں حضرت اقدس کے بھانجے تھے اور بچپن میں ہی دینی رجحان اور حضرت اقدس کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے۔انہوں نے جب ہوش سنبھالا تو راجپوتانہ کی ریاست کوٹہ میں اراضی خریدی۔جس کی آبادی اور انتظام و انصرام کے لئے انہوں نے حضرت اقدس سے عرض کی کہ مجھے بھائی عبدالرحمن صاحب کی مدد کی ضرورت ہے۔تو حضور نے مجھے فرمایا کہ آپ پانچ سال کے لئے وہاں چلے جائیے۔چنانچہ دسمبر ۱۹۰۳ء میں میں والدہ صاحبہ، اہلیہ صاحبہ اور برادر نسبتی احمد دین صاحب سمیت قادیان سے کوٹہ چلا گیا۔اگر چہ کوٹہ میں سیر و تفریح اور شکار کے اکثر مواقع ملتے۔اور مرزا محمد احسن بیگ صاحب اور میرا بہت سارا وقت شکار گاہوں میں شیر۔چیتے۔بھیڑیئے۔سو ر اور ہرنوں وغیرہ کے شکار میں صرف ہوتا تھا اور بیسیوں دفعہ میں نے ان کا شکار کیا۔لیکن حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جدائی اور وطن والوں سے دوری بار بار مجھے بیتاب اور پریشان کرتی لیکن محترم مرز امحمد احسن بیگ صاحب کی خواہش پر اور تحریر کرنے پر حضرت اقدس علیہ السلام یہی ارشاد فرماتے کہ ”میاں عبدالرحمن ! ہماری خوشی چاہتے ہو تو وہیں بیٹھے رہو۔“