اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 221 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 221

۲۲۱ ایک لہر دوڑ گئی اور ہماری عید کو چار چاند لگ گئے۔عید کے موقعہ پر اکثر شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم حضرت کے حضور نیا لباس پیش کیا کرتے تھے۔اور مدت سے ان کا یہ طریق چلا آ رہا تھا۔اس روز اس لباس کے پہننے میں کچھ تاخیر ہوگئی۔یا سید نا حضرت اقدس ہی خدا کے موعود فضل کے حصول کی سعی و کوشش میں ذرا جلد تشریف لے آئے۔وہ لباس آج پہنچا نہ تھا اور حضور تیار ہو کر مسجد مبارک کی سیڑھیوں کے رستے اتر کر مسجد اقصیٰ کو روانہ ہو لئے تھے۔مسجد مبارک کی کوچہ بندی سے ایک یا دو قدم ہی حضور آگے بڑھے ہونگے کہ وہ لباس حضرت کے حضور پیش ہو گیا۔اور حضور پر نور خلاف عادت شیخ صاحب کی دلجوئی کے لئے واپس الدار کولوٹے۔اندرون بیت تشریف لے جا کر یہ لباس زیب تن فرمایا۔اور پھر جلد ہی واپس مسجد اقصیٰ میں پہنچ کر حسب معمول مخدومنا حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتداء میں نماز عید ایک خاصے مجمع سمیت ادا فرمائی۔مگر خطبہ عید حضرت اقدس نے خود دیا۔-۵- سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خطبہ اردو میں پڑھا جس کے آخری حصہ میں خصوصیت سے جماعت کو باہم اتفاق اور اتحاد اور محبت و مودت پیدا کرنے کی نصائح فرمائیں اور پھر اس کے بعد حضور نے حضرات مولوی صاحبان کو خاص طور سے بیٹھ کر لکھنے کی تاکید کی اور فرمایا کہ اب جو کچھ میں بولوں گا وہ چونکہ ایک خاص خدائی عطا ہے لہذا اس کو توجہ سے لکھتے جائیں تا کہ محفوظ ہو جائے ورنہ بعد میں میں بھی نہ بتا سکوں گا کہ میں نے کیا بولا تھا۔( ما حصل فرمان بالفاظ قادیانی) چنانچہ حضرت مولانا مولوی نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو دور بیٹھے ہوئے تھے اپنی جگہ سے اٹھے اور قریب آ کر سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دائیں جانب حضرت مولانا مولوی عبدالکریم رضی اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیٹھ گئے۔حضور اقدس اس وقت اصل ابتدائی مسجد اقصی کے درمیانی دروازہ کے شمالی کو نہ میں ایک کرسی پر شرق رو تشریف کبیر فرما تھے اور حاضرین کا اکثر حصہ صحن مسجد میں۔مکرمی محترم حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور عاجز راقم بھی پنسل کاغذ لے کر لکھنے کو بیٹھے۔کیونکہ مجھے خدا کے فضل سے حضور کی ڈائری نویسی کا از حد شوق تھا اور حضرت شیخ صاحب اپنے اخبار الحکم کے لئے لکھنے کے عادی ومشاق تھے پہلی تقریر یعنی خطبہ عید حضور نے کھڑے ہو کر فرمائی تھی جس کے بعد پیرانمبر ۵ میں بدر میں عرفانی کبیر“ کے الفاظ چھوٹے ہوئے ہیں اور ان کی جگہ نقطے ڈالے ہوئے ہیں۔* وہاں یہ جو الفاظ ہیں ” ڈائری نویسی کا از حد شوق تھا۔بدر میں از حد کی بجائے سہواً از خود درج ہے۔