اصحاب احمد (جلد 9) — Page 5
والد ایک سادھو کے جال میں نقل مکانی وغیرہ میں آپ کی تعلیم کے دو تین سال ضائع ہو گئے۔اب والد صاحب نے فیصلہ کیا کہ آپ چونیاں میں ہی زیرتعلیم رہیں۔چنانچہ جنوری یا فروری ۱۸۹۵ء تک آپ وہاں ہی تعلیم پاتے رہے۔اس دوران میں کچھ عرصہ والد کسی سادھو کے ایسے گرویدہ ہو گئے کہ ملازمت ترک کر کے دور کہیں گوالیار کے پہاڑوں اور جنگلوں میں اور کہیں ہمالیہ اور اور بندھیا چل کی چوٹیوں پر بعض جڑی بوٹیوں کی تلاش میں ایسے سرگرداں رہے کہ دو تین سال تک ان کا کوئی پتہ نہ چلا اور والدہ نے گھر کا اندوختہ اور ضروریات تک اٹھا اٹھا کر بچوں کی پرورش کی اور باوجود تنگی ترسی کے بچوں کو والد کی گمنامی کا علم نہ ہونے دیا۔بھائی عبدالرحمن صاحب کو علم ہو گیا تو انہوں نے اپنی مہربان والدہ سے عرض کیا کہ آپ تسلی رکھیں ، گھبرائیں نہیں۔میں نے خط لکھنا تو سیکھ لیا ہے، اب سکول کو چھوڑتا ہوں اور محنت مزدوری کر کے جو کچھ حاصل کروں گا آپ کی خدمت میں حاضر کر دیا کروں گا۔آپ میرے بھائی بہنوں کی اچھی طرح سے پرورش کریں اور ان کو اچھی تعلیم دلائیں۔والدہ پر ان الفاظ کا ایسا اثر ہوا کہ وہ آپ کو چھاتی سے لگا کر زار و قطار رونے لگیں اور آپ کو تسلی دی کہ نہیں تمہارے ابا کا خط آ گیا ہے وہ جلد آتے ہیں۔۔۔۔خدا کی شان کہ والدہ نے تو محض تسلی کے لئے یہ کہا تھا مگر چند ہی روز بعد والد کی طرف سے خط اور خرچ آ گیا اور اطلاع کے مطابق وہ جلد آ گئے۔ان کے خیالات مہوسانہ تھے۔سینکڑوں روپیہ نسخہ جات کیمیا کی نذر کر دیا اور سیکھا تو صرف یہ کہ گندھک اور پارہ کا گلاس بنا لیا کرتے تھے اور بس۔آخر تنگ آ کر پھر بطور پٹواری سرکاری ملازمت حاصل کرلی۔حب اسلام کا آغاز والد پرانے زمانہ کی طرز تعلیم کے باعث لائق فارسی دان قابل منشی اور خوشخط و خوشنویس تھے۔تعلیم فارسی چونکہ مسلمان اساتذہ سے پائی تھی اس لئے ان کے خیالات میں کبھی کبھی اسلامی جھلک نظر آتی تھی اور ایک حد تک ان کے خیالات اپنے بیٹے کے لئے خضر راہ ہوئے۔مزید یہ کہ آپ کے بیٹے نے چوتھی یا پانچویں جماعت کے نصاب میں ”رسوم ہند“ نامی کتاب بھی پڑھی۔اور آپ پر اس نے ایسا مقناطیسی اثر کیا کہ آپ کی کایا پلٹ ہو گئی۔آپ ظلمات کی گھٹا سے نکل کر جالے میں آگئے۔اور بت برستی کے موروثی جذ بہ پر بہت شکنی و