اصحاب احمد (جلد 9) — Page 133
۱۳۳ ہو کر گمنامی وقعر مذلت میں غرق ہو کر بالکل ایک چھوٹی سے بستی کی شکل میں تبدیل ہو چکی تھی۔جہاں کوئی پر لیس تھا نہ اخبار، کارخانہ تھا نہ تار بجلی تھی نہ فون۔ریل تھی نہ ڈیزل کار۔حضور کو کیا ورثہ ملا حضرت بھائی جی کے اس بیان سے پہلے خاکسار ڈاکٹر گور بخش سنگھ صاحب میونسپل کمشنر کے بھائی سردار بخشیش سنگھ صاحب ولد سردار لہنا سنگھ صاحب قوم رام گڑھیہ سکنہ قادیان کا بیان یہاں درج کرتا ہے۔خاکسار کے استفسار پر بتایا گیا کہ مجھے یاد ہے (حضرت) مرزا صاحب ہمیں یہ نصیحت کرتے تھے کہ قادیان بہت آباد ہو جائے گا اور ترقی کرے گا۔آپ لوگ بھی بیشک ڈھاب وغیرہ کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیں۔آپ کو بہت فائدہ ہوگا اور دوسرے لوگوں کو بھی قبضہ کر لینے دیں۔ہم کہتے تھے کہ ہمیں تو یہ یقین کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ قادیان ترقی کرے گا۔اور آپ جو مدرسہ وغیرہ کی عمارتیں تعمیر کر رہے ہیں ، ہماری سمجھ میں تو یہ عمارتیں بھی ویران ہو جائیں گی اور یہاں بھی گدھے وغیرہ جانور بندھا کریں گے۔“ حضرت بھائی جی تحریر فرماتے ہیں: سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام گاؤں کی اراضیات اور جائیداد کے علاوہ بتیس دیہات کی تعلقہ داری میں بحیثیت ایک رئیس و مالک تھے۔حضور کو اپنی کسی زمین کا علم تھا نہ جائیداد کا پتہ۔وہ جس کے قبضہ میں تھی وہی اس کو استعمال کرتا اور فائدہ اٹھاتا۔حضور کو لینے کی بجائے دینے پڑا کرتے۔خرچ آمد سے زیادہ ہو جاتا اور مالیہ ولگان حضور کو اپنی گرہ سے ادا کرنا پڑتا۔اس طرح حضور اس جائیداد کے لحاظ سے مزارعین یا کارندوں کے رحم پر تھے۔شرکاء حضور کے دنیوی لحاظ سے اپنے فن کے ماہر علم کے پکے اور گانٹھ کے پورے تھے۔وہ برسراقتد اور تھے اور ان کا دبدبہ ولاٹھی چلتی تھی۔اللہ تعالیٰ کی تجلی رجوع خلق اور حضور کے فنافی اللہ فنافی الرسول اور فنا فی الدین ہو جانے اور اپنے بیگانوں کو اسی رنگ میں رنگین کرنے کی مساعی کی وجہ سے اور استقبال الی اللہ کے باعث ان کو حضور سے خدا واسطے کا بغض قلبی عناد اور دلی عداوت تھی۔حضور کا عروج ان کو ایک آنکھ نہ بھاتا۔اور وہ ہمیشہ در پے آزار رہتے۔ہنسی مذاق اور تمسخر و استہزاء سے بھی بہت آگے نکل جایا کرتے۔زیر مسجد خرافات کا نقشہ دکھائی دیا کرتا۔ان حالات کو دیکھ کر ایمان اور بھی بڑھ جایا کرتے۔کیونکہ قول خداوندی ( یعنی حضرت اقدس کے