اصحاب احمد (جلد 9) — Page 131
۱۳۱ اور روح فرسا ہوتی ہوگی۔جن میں سے حضرت مرزا صاحب مرحوم نے کوئی بھی نہ دیکھی۔اور جو ایک مسجد البیت دیکھی تو ایک دھر مسالہ کی شکل اور سکھوں کے قبضہ میں۔کتنا درد اٹھتا ہوگا ان کے دل میں۔اور کیا حالت ہوگی ان کے قلب کی؟ اپنی کوئی مسجد نہ دیکھ کر ان کے دل میں مسجد بنانے کا جوش پیدا ہوا۔خدا نے توفیق بھی رفیق فرمائی اور وہ مسجد بن گئی۔( یہ ) مسجد موجود ہے۔اس کی شکل وصورت اور بناوٹ، خوبصورتی و مضبوطی اس عظیم انسان کے جذبات کی مظہر ہے۔گئے گزرے دنوں اور عمر بھر کی ناکامیوں اور مایوسیوں کے بعد جس خاندان کے ایک فرد نے ایسی مسجد تعمیر کرائی۔اس کے بر سر حکومت واقتدار بزرگوں نے کیسی خوبصورت ، وسیع اور شاندار مساجد بنائی ہوں گی ؟ لوگوں نے مقامی حالات اور بستی کے مسلمانوں کی بے دینی و جہالت کے مد نظر عرض بھی کیا کہ اتنی بڑی مسجد ( آپ ) بناتے ہیں۔نمازی کہاں سے آئیں گے؟ کہتے (اس میں ) ہوگا کریں گے مگر آپ نے ایسی مسجد بنائی جسے خدا نے قبول کیا اور بڑھایا اور ا بھی بہت بڑھائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اصل مسجد کا رقبہ زیر گنبد قریباً سوا چار سو مربع فٹ مستقف اور ساڑھے تیرہ سو مربع فٹ بصورت صحن تھا۔منارۃ اسیح کی بنیاد کے ساتھ ہی اس مسجد کی توسیع بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی نے کروائی۔جس سے مسجد اقصیٰ کا صحن تین ہزار چار سو مربع فٹ بڑھ گیا۔اول فرش صحن اور اس اضافہ کا امتیاز نمایاں موجود ہے۔اور کنواں، مزار شریف، نیز منارة امسیح ، مسجد کے صحن میں شامل ہو گئے۔مشرقی کو چہ کو مسقف کر کے غسل خانے اور وضو کے لئے پانی کا انتظام کر دیا گیا اور اس طرح صحن سے کئی گنا زیادہ بڑھ گیا تھا۔۴۰۳ تیسری مسجد محلہ ارائیاں اور چوتھی حلقہ خوجیاں میں تھی۔اور یہ دونوں بالکل چھوٹی ، ویران اور غیر آباد پڑی تھیں۔ان کی بناوٹ اور وضع سے معلوم ہوتا ہے کہ پرانی اور قدیم نہیں بلکہ ایام امن اور قریب زمانہ کی بناوٹ تھیں۔ایک عرصہ تک ہم لوگ عموما غسل وغیرہ کے لئے وہیں جایا کرتے کیونکہ غسل خانے صرف انہی میں تھے نوافل بھی ادا کر لیا کرتے یا بعض آس پاس رہنے والے دوست فرائض بھی ان میں پڑھا کرتے رہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس زمانہ میں ان کی مرمت و آبادی اور ڈول رسی کے چندوں میں بھی احمدی غیر احمدی کا کوئی امتیاز نہ تھا۔سبھی حسب توفیق حصہ لیا کرتے۔آب نوشی اور دیگر ضروریات کے لئے کنواں صرف ایک وہی جو مسجد اقصیٰ کے صحن میں حضرت اقدس کے والد بزرگوار حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے اپنی عمر کے بالکل آخری حصہ میں بنوایا۔حضور کے حصہ میں آیا دیوان خانہ میں بھی ایک