اصحاب احمد (جلد 9) — Page 89
۸۹ لے جارہی ہیں اور وہ بھی حضور کی اجازت ہی سے لے جارہی ہیں۔مگر ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق اور بعد المشرقین تھا۔شیخ احمد دین صاحب سامان پہنچا کر اپنے وطن چلے گئے اور میں اپنے بھائی بہنوں سمیت اسی چک متصل لائلپور میں رہنے لگا جہاں میرے وہ رسالدار چچا صاحب رہتے تھے جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔والدہ نے مجھے اپنے گھر میں رکھا اور ہمت مردانہ سے رکھا۔نہ برادری کا خوف کیا نہ کسی طعن کی پرواہ کی۔نہ صرف یہی کہ نہ خود ہی مجھے کبھی میرے مذہب کے خلاف کچھ کہا یا میرے کسی عمل کو نا پسند کیا بلکہ کسی رشتہ دار یا پڑوسی تک کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہ دی۔طبیعت میری ابھی کمزور تھی۔مناسب علاج اور غذا سے نہایت ہی شفقت اور محبت سے میری پرورش کی۔اور بڑے اہتمام سے میری ضروریات کا خیال رکھا۔نماز میں گھر میں پڑھا کرتا تھا۔نہ کبھی برا منایا نہ پیشانی پر بل آنے دیا۔بلکہ جگہ وغیرہ کا خود انتظام فرما دیتیں۔اور مناسب امداد خوشی سے فرماتیں۔اسی سفر میں عید الاضحی آئی تو قربانی کا انتظام بھی کرادیا اور خوشی سے کھایا کھلایا۔اور چونکہ اس زمانہ میں ابھی ہماری نمازیں غیر احمدیوں سے جدا نہ ہوئی تھیں گاؤں کی مسجد میں جا کر نماز ادا کرنے کے لئے خوشی سے اجازت دی۔اس طرح کم و بیش ڈیڑھ ماہ میں ان کے پاس رہا۔والدہ محترمہ اور میرے بھائی بہنوں نے مجھ سے نہایت عزت اور محبت کا سلوک کیا اور کبھی بھی کوئی ایسی بات نہ ہونے دی کہ میں اسے نا پسند کرتا۔والدین سے حسن سلوک والد صاحب بزرگوار ان ایام میں وہاں نہ تھے بلکہ میر پور چومکھ علاقہ ریاست جموں میں بسلسلہ ملا زمت مقیم تھے اور ان کو بھی میری یوں گھر آنے کی اطلاع ہو چکی تھی مگر انہوں نے بھی میری اس آمد کو برا نہ منایا بلکہ خوشنودی اور پسندیدگی کی نظر ہی سے دیکھا اور اس طرح مسلمان رہتے ہوئے میرے تعلقات اپنے والدین سے نیاز مندانہ اور والدین کے مشفقانہ ہو گئے۔اور میرے آقا نامدار کی زبان مبارک پر جو یہ مقولہ الاستقامة فوق الكرامة کبھی کبھی دوران تقریر میں جاری ہونے کی عزت پایا کرتا تھا، اپنی تاثیر اور پھل کے لحاظ سے صادق ہو کر نمودار ہو گیا۔فالحمد للہ۔