اصحاب احمد (جلد 9) — Page 56
۵۶ یہاں تک پہنچ گئی کہ چھریوں اور کلہاڑیوں تک کے حملے کئے گئے اور کئی کئی نے مل مل کر مجھے گرایا اور چھاتی پر بیٹھ بیٹھ کر جان تک لینے کی کوشش کی یا خوف دلایا۔اور اس طرح آٹھ نو ماہ کا طویل زمانہ میرے لئے نہایت درجہ رنج و غم اور در دوستم کا زمانہ تھا۔تکلیف دینے کی کوئی بات نہ تھی جو میرے لئے روانہ تھی۔اور ظلم و تشدد کا کوئی طریق نہ تھا جسے میرے بزرگوں اور عزیزوں نے آزمانے کی کوشش نہ کی ہو۔میرے اس درد کی داستان بہت لمبی اور اتنی دردناک ہے کہ راجہ ہریش چندر کے مصائب و مشکلات اس کے سامنے بیچ نظر آتے ہیں۔اور حقیقت رائے کے مبالغہ آمیز واقعات اس کے مقابل میں ایک افسانہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔فرق صرف یہ ہے کہ ان لوگوں نے رائی کو لے کر پہاڑ بنا دیا اور طرح طرح کی رنگ آمیزیوں اور ملمع سازیوں سے اپنی خاص مصلحتوں کے ماتحت بعض بالکل معمولی واقعات کو مذہبی رنگ چڑھا چڑھا کر اپنی قوم کے جذبات کو دوسرے مذہب کے پیروؤں کے خلاف بھڑ کا بھڑکا کر بعض سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنالیا اور اس کام کے لئے بعض عیار لوگوں نے زندگیاں تک وقف کر دیں۔اور اس پرو پیگنڈا کے لئے ملک کے طول وعرض میں گہری سازشوں کا جال بچھا دیا۔مگر جو کچھ مجھ پر گذری اور میرے ساتھ بیتی وہ چونکہ میرے اپنے ہی بزرگوں، محسنوں اور عزیزوں کی طرف سے تھی کسی غیر کا اس میں دخل نہ تھا اس لئے میں نے ان کا اظہار تفصیلاً کبھی نہیں کیا۔ڈ چکوٹ کے پٹوار خانہ کے پاس پہنچ کر جب ہم لوگ سواری سے اترے اس وقت والد صاحب نے مجھے الگ جا کر جو کچھ کہا اور جس رنگ میں کہا وہ جہاں میرے والد کے دلی ارادوں اور عزم کا آئینہ دار، ان کی قلبی کیفیات اور منتہائے نظر کا مظہر تھا۔وہاں میرے افسردہ دل کے لئے ایسی چوٹ تھا جس سے میری ہستی کی بنیاد میں ہل گئیں مجھ پر سکتہ کا عالم طاری ہو گیا۔پاؤں تلے کی زمین نکل گئی۔میری زبان بند رہ گئی اور دل و دماغ ایسا بے حس ہوا کہ والد صاحب کو کوئی جواب بھی نہ دے سکا اور میرے حواس اس وقت تک بجانہ ہوئے جب تک والد صاحب کی زیادہ سخت اور کرخت آواز نے پہلے سے بھی زیادہ بختی و شدت سے اپنے مطالبہ کو نہ دہرایا۔وہ الفاظ سخت اور طریق خطاب نہایت رنجیدہ تھا۔ان کا خلاصہ در خلاصہ اور مفہوم نرم ترین الفاظ میں یہ تھا کہ : اب چونکہ ہمارا اپنا علاقہ آ گیا ہے جہاں ایک رنگ کی حکومت ہمیں میسر اور ہماری عزت و عظمت کا