اصحاب احمد (جلد 9) — Page 33
۳۳ وسائل اختیار کر سکتا ہے وہ انہوں نے سارے ہی جمع کئے۔پیار بھی کیا۔ہمدردی بھی جتائی، خاطر و مدارات بھی کی۔تواضع سے بھی پیش آئے۔کھانے اور پانی کی تو نہ صرف صلح ہی کی، بلکہ تیار کرانے کو گھروں میں پیغام بھیج دیئے۔اور آخر جب کام نکلتا نظر نہ آیا۔تو کچھ سختی بھی استعمال کرنے کی کوشش کی۔مگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ہی میری دستگیری فرمائی۔اور دورازہ پر پہنچا کر اندر بھی داخل خود اس نے کر دیا۔ورنہ میں اپنی طاقت سے ان مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے کے ہرگز ہرگز قابل نہ تھا۔لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگہ میں بار فضل ہے اس کا ور نہ من آنم کہ من دانم۔قادیان میں قیام وتعلیم غرض اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھ ناچیز کو کفر و شرک کے اتھاہ گڑھے سے اپنا دست قدرت بڑھا کر نکالا اور اپنے پیارے صحیح کے ذریعہ مجھے قبول فرمایا۔میں قادیان میں رہنے لگا۔حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب موصوف مجھ سے چھ سات ماہ قبل قادیان پہنچ چکے تھے۔ان کے دل میں اللہ تعالیٰ نے میرے لئے جگہ بنا دی اور وہ میری ہر طرح کی نگرانی اور تعلیم و تربیت کا خیال رکھنے اور قرآن مجید پڑھانے لگے۔فجزاه الله احسن الجزاء في الدنيا والاخرة - شيخ عبدالعزيز صاحب انو مسلم * جو یاست جموں کے باشندہ تھے مجھے سے قریباً دو ہفتہ قبل قادیان میں آ کر اسلام قبول کر چکے تھے۔وہ بھی میرے ساتھ تعلق محبت رکھتے اور مل جل کر رہتے تھے۔نیز میں نے حضرت اقدس کی کتب کا مطالعہ شروع کر دیا۔ان میں سے سب سے پہلے میں نے سرمہ چشم آریہ پڑھی جو مرزا ایوب بیگ صاحب نے مجھے ایک حد تک پڑھائی اور سمجھائی۔وہ مجھ سے حضرت شیخ عبدالعزیز صاحب تقسیم ملک سے طویل عرصہ قبل وفات پاگئے تھے۔تاریخ وفات معلوم نہیں ہو سکی۔وہ موصی نہیں تھے۔قادیان گائیڈ مطبوعہ نومبر ۱۹۰۰ء میں نو مسلمان قادیان میں تیسرے نمبر پر شیخ عبدالعزیز صوفی سابق کچھہتر سنگھ نام درج ہے (صفحہ ۹۳) گویا اس وقت تک وہ قادیان میں تھے اور زندہ تھے۔* مرزا صاحب کے مفصل حالات اصحاب احمد جلد اول میں درج ہیں۔