اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 30 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 30

۳۰ صاحب خود مسجد مبارک کے درمیان کمرہ میں تشریف لے گئے۔ابتدائی زمانہ میں سیدنا حضرت مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام اس کھڑکی سے جو بیت الذکر کو درمیانی کمرہ میں سے کھلتی ہے اور آج تک موجود ہے مسجد مبارک میں تشریف لایا کرتے تھے اور اس کھڑکی کے ساتھ ہی دیوار کے ساتھ صف اول کی دائیں طرف کھڑے ہو کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔میں وضو کر کے مسجد مبارک کے درمیانی کمرہ کے دروازہ پر پہنچا تو درمیانی حصہ میں آٹھ یا دس آدمیوں کا مجمع تھا۔اور انہی میں سیدنا حضرت مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام بھی تشریف فرما تھے۔مگر میں نے حضور کو نہ پہچانا۔کیونکہ مجلس میں کوئی امتیاز نہ تھا بلکہ سب کے سب برابر فرش مسجد پر ایک حلقہ کی صورت میں جمع تھے۔به برکت کتب حضرت اقدس توفیق اسلام واحمدیت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے اشارہ سے مجھے آگے بلایا اور سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی طرف اشارہ کر کے مجھے سلام کرنے کو کہا تب میں نے جانا پہچانا۔اور ادب سے سلام کیا جس کا سید نا حضرت مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے جواب دے کر سر اٹھایا اور نیم وا چشم مبارک سے مجھ پر نظر ڈالی اس زمانہ میں عموماً حضور ا ذان سے پہلے مسجد میں تشریف لے آیا کرتے اور بعض اوقات خود حکم دے کر اذان دلوایا کرتے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور اذان سے پہلے ہی مسجد میں تشریف لے آئے تھے یا کم از کم اذان ہوتے ہی آگئے تھے اور میرے وضو کر کے پہنچنے سے قبل ہی حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے حضور سے میرا ذکر کر لیا تھا۔حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب بھی مجلس میں موجود تھے سیدنا حضرت اقدس نے مجھ پر نظر ڈالی اور فرمایا: ”مولوی صاحب! یہ لڑکا تو ابھی بچہ معلوم ہوتا ہے۔اور نا بالغ نظر آتا ہے۔ایسا نہ ہو ہندو کوئی فتنہ کھڑا کر دیں۔یہ لوگ ہمیشہ موقعہ کی تاک میں رہتے ہیں۔“ اس پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک طرف مجھے اشارہ کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ میں بھی کچھ عرض کروں اور دوسری طرف حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ لڑکا ہوشیار ہے اور سوچ سمجھ کر یہاں آیا ہے اور حضرت مولانا نورالدین صاحب نے بھی مولوی صاحب کی تائید میں کوئی ایسی ہی بات عرض کی۔ادھر میں کھڑا ہو گیا اور عرض کیا کہ حضور میں تو مدت ہوئی دل سے مسلمان ہوں۔نماز مجھے آتی ہے اور پڑھتا ہوں۔حضور کی کتاب ” انوار الاسلام“ اور ” نشان آسمانی“ میں نے اچھی طرح سمجھ کر پڑھی ہیں۔مجھے