اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 419 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 419

۴۱۹ آپ کو بخار آجاتالیکن باوجود اصرار اور منت سماجت کے اس کام سے نہ رکتے۔آپ کی سالہا سال کی منفر دانہ توجہ سے بحمد اللہ یہ یاد گار قائم ہو چکی ہے۔اور حضرت مسیح موعود کی اس یادگار کے ساتھ حضرت بھائی جی کا نام بھی وابستہ رہے گا۔آپ کو حضرت مسیح موعود کے خاندان کے تمام افراد سے بہت محبت تھی اور تمام افراد اس محبت کو محسوس کرتے تھے چنانچہ مجھے محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب نبیرہ ( پوتا ) حضرت مرز اسلطان احمد صاحب نے تحریر کیا ہے کہ بچپن سے حضرت بھائی جی سے میرے وابستگی تھی۔اور آپ خاص سلوک محبت سے پیش آتے تھے حضرت مسیح موعود کے خاندان کے کسی نو نہال سے ملاقات ہوتی تو آپ کے روئیں روئیں سے محبت پھوٹ کر ظاہر ہوتی۔آپ فرط انبساط سے ان کے ہاتھ پر بوسہ دیتے۔ان کے دکھ درد کو اپنا درد اور ان کی خوشی کو اپنی بہترین خوشی سمجھتے۔حضور کا خاندان اور احباب جماعت آپ سے بہت محبت رکھتے تھے۔سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قدردانی کرتے ہوئے ۱۹۵۰ء سے مجالس صدرانجمن احمد یہ وانجمن تحریک جدید قادیان کا ممبر بھی اور بعد ازاں قائم مقام ناظر اعلی و قائم مقام امیر مقامی بھی مقرر فر مایا تھا۔اور ۱۹۵۵ء سے آپ کے لئے ایک سو روپیہ ماہوار کا وظیفہ بھی جاری کیا تھا۔حضور یا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی طرف سے کوئی ارشاد موصول ہوتا تو ہمہ تن نیاز ہو جاتے اور وہ امرجس فرد یا افسر سے متعلق ہوتا با وجود بڑھاپے کے فوراً اس کے پاس پہنچتے۔اور باوجود عرض کرنے کے کہ آپ ہمیں اپنے پاس بلایا کریں۔آپ کیوں تکلیف فرماتے ہیں۔آپ اپنی تکلیف یا علو مرتبت کا کبھی خیال نہ کرتے۔گویا جہاں آپ کی طبعیت میں خود داری تھی وہاں حد درجہ انکساری بھی تھی۔کوئی امر قابل دعا ہوتا یا کوئی خوشی یا رنج کی خبر ہوتی تو بہت سے احباب سے انفراداً ذکر کر کے بزرگان کی خوشی یا رنج میں شریک کرتے۔خوشی کی خبر پر با آواز بلند الحمد للہ کہنا اذان سنتے ہوئے مسنون طریق اختیار کرنا مسجد میں آنے والے ہر فرد کو مکمل جواب وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ کہنا ہمارے کانوں میں گونجتا ہے۔آپ نہایت با قاعدگی سے تہجد اور باجماعت نماز ادا کرنے والے بزرگ تھے۔اکثر دیکھنے میں آتا کہ آپ علالت کے باوجود با جماعت تہجد اور نماز میں تشریف لاتے۔حالانکہ آپ میں چلنے کی طاقت بھی نہ ہوتی۔اور آپ کسی درویش کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر گھر واپس پہنچتے۔مسجد مبارک میں نماز با جماعت کے وقت سے بہت پہلے تشریف لاتے۔اور سنن و نوافل میں دیر تک مصروف رہتے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ