اصحاب احمد (جلد 9) — Page 417
۴۱۷ عبدالرحمن صاحب نے ہی پیدا کیا تھا۔تاریخ سلسلہ کے متعلق آپ کو بہت واقفیت تھی۔خصوصاً دار امسیح کے بارے میں کہ کہاں کہاں حضور علیہ السلام رہائش رکھتے رہے۔تصنیف فرماتے رہے۔ٹہلتے رہے۔نیز اس بارہ میں کہ خطبہ الہامیہ حضور نے کہاں دیا تھا۔حضور کے جنازہ گاہ کی تعیین کہ کس مقام پر بڑے باغ میں جنازہ پڑھا گیا تھا۔جنازہ گاہ کی حفاظت اور خوبصورتی کے لئے آپ نے انتھک کوشش اور محنت کی۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہر فرد کے ساتھ خواہ وہ عمر کے لحاظ سے چھوٹے سے چھوٹا ہو۔آپ غایت درجہ احترام ، انکساری اور محبت سے پیش آتے تھے۔چنانچہ اس امر سے بھی ان کی محبت ظاہر ہے کہ جب میں باہر سفر پر جاتا تو میرے بیوی بچوں کا حال روزانہ دریافت فرماتے کبھی خود آ کر اور کبھی اماں جی ( اپنی اہلیہ محترمہ کو بھیج کر۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ مساجد مبارک واقصی میں جس جگہ حضور کھڑے ہو کر نماز ادا فرماتے رہے تھے بھائی جی کا تعہد تھا کہ آپ جلد پہنچ کر اسی جگہ مصلی بنا ئیں۔آپ نماز با جماعت کا آخر عمر تک شدت سے اہتمام کرتے تھے۔آپ کا یہ طریق تھا کہ مسجد میں جو دوست آتا آپ بلند آواز سے اس کے سلام کا جواب دیتے۔نیز صاحبزادہ صاحب محترم یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ بھائی جی قادیان سے کبھی بھی سید نا حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی اجازت حاصل کئے بغیر تشریف نہ لے جاتے۔آپ کی طبیعت نہایت درجہ سادہ تھی۔آپ سلسلہ کا کام پڑنے پر خطرات کی پر کاہ پروانہ کرتے تھے۔چنانچہ انگریزی راج کے زمانہ میں بعض کا رہائے پر خطر جو خاص ذمہ داری کے کام تھے۔آپ کو سلسلہ کی طرف سے مقرر کیا گیا جو آپ نے نہایت دلیری اور باحسن طریق سرانجام دیئے۔مثلاً انگریز گورنر کے ایک حکم کے خلاف لکھنو جا کر وہاں بعض ٹریکٹ آپ نے طبع کروا کے وہیں سے مختلف مقامات کے لئے ڈاک میں روانہ کئے۔اللهم اغفر له و ارحمه و ادخله برحمتك في جنة النعیم - آمین مؤلف کے تاثرات ہم درویشوں کی انتہائی خوش بختی ہے کہ ہمیں قریباً پونے تیرہ سال تک حضرت بھائی جی کی صحبت میں رہنے کا موقعہ ملا۔اور آپ کی نظر شفقت اور محبت بھری دعائیں ہمیں حاصل ہوتی رہیں مجھے ان کی شفقت کے بہت سے واقعات جو میرے ساتھ گزرے ہیں بار بار سامنے آ کر اور گذرے ہوئے ایام کی سہانی یاد دلا کر تڑ پاتے ہیں۔میرے ساتھ اور میرے اہل وعیال کے ساتھ اپنے بچوں کا سا سلوک فرماتے اور