اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 411 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 411

۴۱۱ یہ واقعہ میری شادی کا ہے ہم لوگ جب رخصتانہ کرا کے واپس قادیان آئے تو دریائے بیاس عبور کر کے بھٹیاں کے پتن کی طرف سے آنا ہوا۔ہم قادیان پہنچے تو عصر کا وقت ہو چکا تھا اور راستے میں پہلے حضرت بھائی جی کا گھر تھا۔آپ کو چونکہ ہماری آمد کی اطلاع تھی۔لہذا آپ اپنے مکان کے باہر کھڑے تھے جو نہی ہمارے ٹانگے آپ کے گھر کے پاس پہنچے تو آپ نے ہمیں وہیں اترنے کا حکم دیا۔اور یہ غیر متوقع بات تھی۔کچھ تعجب بھی ہوا۔مگر آخر ہم سب اتر کر آپ کے گھر میں چلے گئے ادھر ہمارے گھر پر عورتیں دلہن کی آمد کے لئے جمع تھیں۔بھائی جی نے تمام عورتوں کو اور ہمارے خاندان کی مستورات کو بھی بلا بھیجا۔چنانچہ شادی کی چہل پہل اس وقت ہمارے گھر کی بجائے آپ کے گھر میں نظر آنے لگی۔بھائی جی ایسے پھر رہے تھے جیسے خود ان کے بیٹے عبد القادر کی شادی ہے۔اس وقت آپ کے گھر پر بیکری کا کام ہوتا تھا۔لہذا آپ نے باہر تمام مردوں کو اور اندر عورتوں کو خوب سیر چشمی سے چائے سے تواضع کی۔جس کے ساتھ دستر خوان پر ڈھیروں ڈھیر پیسٹری اور کیک رکھے گئے تھے۔یہ اس لئے کیا گیا تھا کہ پرانے زمانے میں پنجاب میں یہ ایک رسم تھی۔کہ تعلقات بہت زیادہ مضبوط بنانے کے لئے شادی کے موقع پر دلہن کی آمد پر دلہن کے سسرال کے گھر اترنے سے قبل وہ اپنے گھر میں اتار لیتے تھے اور پھر اپنے گھر سے اس کو رخصت کیا جاتا تھا۔اس کو دھرم اتارنا کہا جاتا تھا گویا بیٹی بنانا۔اس طرح پر حضرت بھائی جی نے اللہ ان کی روح پر بڑی بڑی رحمتیں نازل فرمادے میری بیوی کو اپنی بیٹی بنایا۔یہ بات بظاہر ایک واقعہ ہے جو ایک دلچسپ یاد ماضی کے سوا شاید کچھ نہ ہو مگر اس واقعہ میں تعلقات کو نباہنے اور خانہ ء واحد کا سارنگ پیدا کرنے کی ایک پُر لطف مثال نظر آتی ہے۔اور اس میں ایک بزرگ انسان کی محبت صادق و پر خلوص کا ایک سمندر موجزن دکھائی دیتا ہے۔مشعل لے کر تلاش کرنے نکلے مگر آپ ایسے پر خلوص اور محبت کرنے والے بزرگ اور پڑوسی نہ پائیں گے۔گویا حضرت مسیح موعود کے یہ سچے عاشق حضور کی وجہ سے ایک مسلک میں منسلک ہو چکے تھے۔اور باہمی جذبہ محبت کو زیادہ سے زیادہ پرورش کرنے کے ذرائع استعمال میں لاتے تھے۔میری آخری ملاقات حضرت بھائی جی سے اکتوبر ۱۹۵۸ء میں قادیان میں آپ کے مکان پر اسی کمرے میں ہوئی۔تو میں نے یہ واقعہ آپ کو یاد دلایا۔تو آپ نے ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے فرمایا۔ہاں اب وہ دن پھر کبھی نہیں آئیں گے۔اکتوبر ۱۹۵۸ء میں عزیزم مکرم شیخ داؤ د احمد صاحب عرفانی اور میں حضرت والد صاحب شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈیٹر و موسس الحکم کی نعش والا تابوت بہشتی مقبرہ میں دفن کرنے کے لئے لے کر قادیان میں