اصحاب احمد (جلد 9) — Page 363
٣٦٣ حضرت مصلح موعود پر قاتلانہ وار اور قادیان میں والہانہ محبت کا اظہار -1 ۱۰ مارچ ۱۹۵۴ء کو جب حضرت مصلح موعود ربوہ میں مسجد مبارک میں نماز عصر پڑھا کر واپس جانے لگے تو ایک غیر از جماعت ناہنجار نوجوان نے حضور کی شہ رگ پر چاقو سے قاتلانہ حملہ کر دیا۔یہ خبر دوسرے روز صبح ریڈیو پاکستان سے سنی گئی۔یہ خبر کیا تھی۔ایک صاعقہ تھی۔ایک بجلی تھی جو آنا فانا گری اور اس نے درویشوں کے حلقہ میں کہرام مچا دیا۔اور ان کے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا۔اس خبر کے ملتے ہی سب دیوانہ وار مسجد مبارک اور دارا مسیح کی طرف دوڑے۔ہر درویش پریشان تھا کہ اب کیا کیا جائے۔ہر شخص چاہتا تھا کہ کاش اس کو قوت پرواز نصیب ہو تو وہ اڑ کر اپنے امام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔اور حضور کے درد و کرب میں شریک ہو کر اپنے آپ کو اپنے پیارے امام پر سے قربان کر سکے۔بیت الدعاء اور دالان حضرت اُم المؤمنین میں حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی نے اشکبار آنکھوں اور غمزدہ دل کے ساتھ نہایت سوز وگداز سے اجتماعی دعا کرائی۔دعا کے وقت حشر سا بپا تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اکثر درویشوں کی آہ و بکاہ عرش الہی تک پہنچ رہی ہے۔پھر حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اور محترم صاحبزادہ مرزا و تیم احمد صاحب کے مشورہ سے چودھری عبدالقدیر صاحب درویش کو (جو بعد میں ناظر بیت المال خرچ مقرر ہو گئے تھے ) کو تفاصیل معلوم کرنے کیلئے بھجوایا گیا۔اور وہ ۱۳ مارچ کو واپس آگئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا تار بھی موصول ہو چکا تھا حملہ کے بارے اور حملہ آور کی گرفتاری کے بارے تار میں دعائیں کرنے کی تلقین کی گئی تھی۔حملہ سے زخم تین انچ لمبا اور پون انچ گہرا تھا۔ہدایت کے مطابق تمام درویشان مسجد مبارک میں جمع ہوئے اور خواتین بیت الفکر میں۔تار، تین بار سنایا گیا۔پھر حضرت بھائی جی نے دو نوافل باجماعت پڑھائی۔جو رقت الحاح اور تضرع کا ایک خاص رنگ لئے ہوئے تھے۔تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی اس نماز میں حضور کی صحت عاجلہ و کاملہ اور درازی عمر کیلئے دعائیں کی گئیں۔بعدہ صدقہ کی تحریک کی گئی۔دو قربانیاں کی گئیں اور بقیہ رقم بیوگان اور مساکین میں تقسیم کی گئی۔۱۲۲ خاکسار مؤلف حضور کے ارشاد پر سلسلہ کے ایک کام کیلئے سری نگر گیا ہوا تھا۔حضور کے احسانات کی وجہ سے وہاں غیر از جماعت کشمیریوں نے بھی اس صدمہ کو بہت محسوس کیا اور شام کو کھانا نہیں کھایا۔خاکسار