اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 350 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 350

fo تھا۔اور دو اڑھائی ہفتے بعد بڑی تگ ودو سے آخری سال کے اس میڈیکل سٹوڈنٹ کی ضمانت ہوئی۔عید الاضحیٰ اسے قید و بند میں گزارنا پڑی۔یہ خاکسار کی موجودگی کی بات ہے۔حضور انور نے لنڈن کا نفرنس ۱۹۸۹ء میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے گذشتہ ایک سال میں جو برکات عطا کی ہیں ان کے شمار کرنے سے میں عاجز آ گیا ہوں۔یہاں ان کا مشخص پیش کیا جاتا ہے : گذشتہ چارسالوں میں ایک ہزار تین سو آٹھ جماعتوں کا اضافہ ہوا۔پانچ سال میں چھ سو ساٹھ مساجد کا تعمیر کرنے سے اور دوسو ایک مساجد کا قبضہ میں آجانے سے اضافہ ہوا۔( مطابق رپورٹ شیخ مبارک احمد صاحب انچارج مبلغ امریکہ وہاں امریکہ کے احمدیوں نے پچپن لاکھ ڈالر سے جو پاکستانی تیرہ کروڑ روپے کے مساوی ہے پانچ سال میں کئی مساجد تعمیر کی ہیں۔مرتب ) اس سال کے آخر تک پچاس سے زائد زبانوں میں تراجم قرآن مجید مکمل ہو جائیں گے۔ایک سو پندرہ زبانوں میں منتخب آیات قرآنیہ کے تراجم ایک سو بارہ زبانوں میں منتخب احادیث کے تراجم اور ایک سو سات زبانوں میں منتخب تحریرات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تراجم ہو چکے ہیں۔جو کام قرآن مجید و احادیث کے تراجم کا چودہ سو سال میں کل عالم اسلام نہ کر سکا۔اس چھوٹی سی جماعت احمدیہ کو چند سال کے اندر اس کے کرنے کی توفیق ملی۔احمدیت کی دوسری صدی کی ضروریات کے لئے تحریک وقف نو میں قریباً پونے تین ہزار بچے آچکے ہیں۔بعض کو معجزانہ رنگ میں خوراک اور شفا حاصل ہوئی۔لائبریا میں ایک داعی الی اللہ کی کوشش سے پینتیس چالیس ہزار افراد نے احمدیت قبول کی۔انگولا کے ایک احمدی دوست گذشتہ سال کی لنڈن کا نفرنس کی ویڈیو کیسٹ وہاں لے گئے جوٹی۔وی افسران کو اتنی پسند آئی کہ انہوں نے اسے بار بار ٹیلی کاسٹ کیا جس سے لوگوں کو توجہ ہوئی اور اب وہاں سے مبلغ بھجوانے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔افریقہ کے مختلف ممالک میں نصرت جہاں سکیم کے ماتحت ہسپتالوں ، مدارس اور کالجوں کے ذریعہ کثرت کے ساتھ خدمت ہوئی ہے۔اب نصرت جہاں سکیم نو جاری کی گئی ہے کہ ان ممالک سے احمدی تجارت کر کے اپنی آمد و ہیں خرچ کریں تا کہ یہ ممالک اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔بہت سے احباب نے اس خاطر اپنی زندگیاں وقف کی ہیں اور بعض ممالک سے تجارتیں شروع ہوگئی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس سکیم میں برکت ڈالی ہے۔میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ افریقہ کے لئے جو وقت اور مال خرچ کیا جائے گا۔دنیا و آخرت میں اس کی جزا ضرور ملے گی۔یہ لوگ چونکہ ذہین ہیں اور سچائی کو جلد پالیتے ہیں اس لئے ان ممالک میں بڑی تیزی کے ساتھ روحانی انقلاب برپا ہو جائے گا۔