اصحاب احمد (جلد 9) — Page 342
۳۴۲ مدنظر رکھا جائے تو سچ یہ ہے کہ ساری بڑائیاں حضرت مسیح موعود کے لئے ہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے لئے ہیں۔مسجد مبارک کے نیچے ایک دروازہ بنا کر سجایا گیا تھا۔حضور مع رفقاء اس میں سے گذر کر مسقف گلی کے رستہ مسجد مبارک میں تشریف لے گئے۔اس مسجد مبارک کے ابتدائی حصہ میں حضور نے دو نفل باجماعت پڑھائے۔پھر حضور نے مسجد مبارک کے دروازے پر کھڑے ہو کر احمد یہ چوک کی طرف جھانکا اور مجمع کو السلام علیکم کہا۔جوابا مجمع کی طرف سے السلام علیکم ورحمته الله وبركاته رکاته کانعرہ بلند ہوا۔اور پھر حضور نے فرمایا۔اب ہم گھر جاتے ہیں۔اور آپ نے دارا مسیح میں داخل ہوتے وقت اپنے رفقائے سفر سے کہا کہ میں اندر جا کر حضرت ام المومنین کو اطلاع دیتا ہوں۔آپ یہاں کھڑے رہیں۔چنانچہ حضرت اُم المؤمنین دروازے کے پاس تشریف لائیں اور سب نے السلام علیکم اور مبارکباد عرض کی۔اور پھر سب اپنے اپنے گھر چلے گئے۔لنگر خانہ کی طرف سے صبح ہی ہر ایک گھر میں کھانا بھجوا دیا گیا تھا۔موڑ پر استقبال میں طلبائے مدرسہ احمدیہ میں خاکسار مؤلف بھی شامل تھا۔جس کی عمر پونے بارہ سال کی تھی اور کوئیں کے پاس جو سڑک کے شمال کی طرف ہے۔وفد سے خاکسار نے بھی ملاقات کی تھی۔اور ایک روز پہلے جو کچی سڑک پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا تھا۔اور طلباء اور دیگر احباب نے کام کیا تھا۔طلباء میں خاکسار بھی شامل تھا۔-1 ۲ - الفضل میں درج ہے کہ ابتدائی قافلہ سفر یورپ کے علاوہ بھی چند احباب نے باجماعت نفل میں شرکت کی تھی ان میں حضرت بھائی جی کے فرزند مہتہ عبد القادر صاحب بھی شامل تھے۔محترم چوہدری فضل احمد خاں صاحب مرحوم ساکن سروعہ ضلع ہوشیار پور تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے ٹیچر تھے۔اور حضرت چوہدری چھجو خاں صاحب مرحوم کے بھائی۔۱۸- اہالیان قادیان کا سپاسنامه مسجد اقصیٰ میں حضور نے نماز عصر پڑھائی۔پھر اہالیان قادیان کی طرف سے سپاسنامہ پیش کیا گیا۔حضور مع رفقاء کرسیوں پر جلوہ افروز ہوئے۔سب کو ہار پہنائے گئے۔رفقاء کو بھی ”الفضل خیر مقدم نمبر دیا گیا۔