اصحاب احمد (جلد 9) — Page 339
۳۳۹ پھر حضور نے مجمع کے ساتھ دعا کی اور فرمایا کہ اب میں پیدل ہی قادیان جاؤں گا۔لیکن قادیان داخل ہونے سے پہلے میں مزار حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جا کر دعا کروں گا اور ( نانا جان ) حضرت میر ناصر نواب صاحب کا جنازہ بھی پڑھنا ہے۔صرف میرے ہم سفر میرے ساتھ جائیں گے۔پھر ہم مسجد مبارک میں نماز پڑھیں گے۔جو احباب ہمیں مکان تک چھوڑنے جانے کی خواہش رکھتے ہیں وہ احمد یہ چوک میں ٹھہرے رہیں۔نیز آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب پیدا کر دیئے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام آج پورا ہورہا ہے۔درحقیقت وہ الہام کئی واقعات کے متعلق ہے جو آپ کے ایک بیٹے سے تعلق رکھتے ہیں۔اس کے کئی نشان آپ نے بیان فرمائے ہیں مثلاً یہ کہ وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔اس ذکر میں یہ بھی الہام ہے کہ دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ اوور یہ اس طرح پورا ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور منشاء کے ماتحت بغیر خیال وارادہ کے ہمیں دوشنبہ کے دن یہاں پہنچنے کا موقعہ ملا ہے۔اس پر احباب نے اللہ اکبر کے نعرے بلند کئے۔حضور مع رفقاء ایک حلقہ میں پیدل قادیان کی طرف روانہ ہوئے منتظمین نے یہ اچھا کام کیا تھا کہ ایک روز پہلے سڑک پر پانی چھڑکوا دیا تھا۔حضور نے قصبہ کے قریب پہنچ کر فرمایا کہ اب ہم بہشتی مقبرہ کی طرف جاتے ہیں۔احباب مسجد (مبارک) کے پاس گلی اور چوک میں ٹھہریں۔ہم وہاں آکر مل جائیں گے۔اس پر چودھری فضل احمد خاں صاحب نے جو ہجوم کے اگلے حصہ کے منتظم تھے مجمع کی ترجمانی میں عرض کیا کہ ہم حضور کو لانے کے لئے گھروں سے نکلے ہیں اجازت دی جائے کہ ہم اسی جگہ ٹھہر میں اور حضور کو ساتھ لے کر شہر میں داخل ہوں۔حضور نے منظور فرمایا۔کہ ہم بہشتی مقبرہ سے ہوکر یہیں آکر مل جائیں گے۔چنانچہ حضور رفقاء سمیت کھیتوں میں سے گذر کر بہشتی مقبرہ کی طرف چلے گئے۔مجمع سے الگ ہو کر حضور نے الفضل کا خیر مقدم نمبر دیکھنا شروع کیا جو مصافحہ کے وقت پیش کیا گیا تھا۔اور فرمایا ” دوشنبہ مبارک دوشنبہ کا الہام تو الفضل نے پہلے ہی پیش کر دیا ہے۔نیز فرمایا کہ ہم نے بہت کوشش کی کہ جلد سے جلد قادیان پہنچیں۔اور دینیس سے اطلاع بھی دے دی تھی کہ میں راستہ میں کسی جگہ ٹھہر نا نہیں چاہتا۔صرف یہ خیال تھا کہ اگر گاندھی جی بمبئی یا اس کے قریب ہوں تو ان سے مل لوں گا۔بمبئی آکر معلوم ہوا کہ وہ ۲۰ نومبر کو آرہے ہیں اس لئے ٹھہر نا پڑا۔پھر ساندھن سے