اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 316 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 316

۳۱۶ 11- کن حالات میں میدان ارتداد میں ان مجاہدین کو کام کرنا پڑا یہ ایک طویل سرگذشت ہے۔اسی طرح مسلم و غیر مسلم طبقات نے امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کو کیا کیا خراج تحسین ادا کیا۔یہ بھی بہت تفصیل طلب ہے۔ایک دو امور کا یہاں ذکر کرنا مناسب ہے۔ایک غیر از جماعت دوست ڈاکٹر محمد اشرف صاحب مراد آبادی نے اپنا واقعہ یہاں ” نقوش آپ بیتی نمبر بابت جون ۱۹۶۴ ء سے بحوالہ تاریخ احمدیت جلد پنجم۔صفحہ ۳۶ یہاں درج کیا جاتا ہے ڈاکٹر صاحب نے تحریر کیا ہے کہ میں تحصیل ہا تھرس میں اپنے نھیال میں گیا۔میں نے دیکھا کہ میرے نانا کی چوپال پر قادیانی مولویوں نے مدرسہ کھول رکھا ہے اور بچے قرآن پڑھ رہے ہیں۔مولوی صاحب مجھے تپاک سے ملے۔جب انہیں اندازہ ہو گیا کہ مجھے قادیانیوں سے کوئی تعصب نہیں تو مجھے کہا کہ اپنے نانا سے سفارش کردو کہ اس چوپال پر مدرسہ والی جگہ پر مسجد بنانے کی اجازت دے دیں یہاں روزانہ باجماعت نماز ہوتی ہے۔میں نے نانا صاحب سے یہ ذکر کر دیا اور اپنی طرف سے حمایت بھی کر دی۔ایک روز باہم گفتگو کر رہے تھے کہ میرے نانا آگئے اور کہا کہ مولوی ! اب تک تو میں خاموش تھا۔مگر آج آپ نے مسجد کی بات شروع کی ہے تو میں بھی کہہ ڈالوں۔دیکھئے جس ہفتہ آپ نے نماز پڑھنا شروع کی۔میری گائے مرگئی۔دوسرے مہینہ جب آپ با جماعت نماز پڑھنے لگے تو میری بڑی لڑکی بیمار پڑگئی اور وہ اب تک بیمار چلی آرہی ہے۔اب آپ ہی سوچئے کہ جب خدا ہم سے ذرا دور ہے تو یہ مصیبتیں نازل ہوتی ہیں اور اگر اس کا گھر ہی یہاں آ گیا۔( یعنی مسجد بنی ) تو پھر وہ سب کو مار ڈالے گا۔ایک بھی ہم میں سے زندہ نہ بچے گا۔سواس گاؤں میں مسجد اب تک نہیں ہے۔چودھری افضل حق صاحب نے جو مفکر احرار سے یاد کئے جاتے ہیں۔اس تحریک ارتداد کے بارے میں تحریر کرتے ہیں : مسلمان پبلک کو چاہئے کہ فتوی بازوں سے مطالبہ کریں کہ وہ غیر اقوام میں تبلیغ کر کے غیروں کو اپنا سچا ہم خیال مسلمان بنا ئیں تا کہ ان پر یہ راز کھل جائے کہ مسلمانوں کو کافر بنانا کتنا آسان اور کا فر کو مسلمان بنانا کس قدر دشوار ہے۔مگر مسلمان فتنہ باز کسی کے رو کے نہیں رکتے تو انہیں اجازت دی جائے کہ جہاں وہ مسلمانوں کو کا فر بناتے ہیں وہاں کبھی کبھی غیر قوموں میں تبلیغ بھی کریں تا کہ ان کا مزاج اعتدال پر آ جائے۔سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں دینی مکاتب ہندوستان میں جاری ہیں۔مگر سوائے احمدی مدارس و مکاتب کے کسی اسلامی مدرسہ میں غیر اقوام میں تبلیغ واشاعت کا جذ بہ طلباء میں