اصحاب احمد (جلد 9) — Page 315
۳۱۵ حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال امیر المجاہدین ایک رپورٹ میں آگرہ سے تقسیم کار کے تعلق میں رقم کرتے ہیں کہ تبلیغی مرکز آگرہ میں میرے ساتھ مولوی (صوفی محمد ابراہیم صاحب بی۔ایس سی اور منشی غلام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل کام کرتے ہیں۔مولوی جلال الدین صاحب ( شمس ) مولوی فاضل اور مہاشہ محمد عمر صاحب نو مسلم سابق طالب علم گورو کل کانگڑی آریوں کے متعلق ہفتہ میں دوبار آگرہ میں لیکچر دیتے اور پبلک کو آریہ دھرم کی حقیقت بتاتے ہیں۔اور باقی ایام میں اردگرد کے دیہات میں تبلیغ کرتے ہیں (وغیرہ وغیره) شیخ عبدالرحمان صاحب قادیانی نو مسلم دورہ کر کے مبلغین کو ہدایات پہنچاتے اور نئے حالات سے تبلیغی مرکز میں اطلاع دیتے اور ہرطرح کام کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خاص توجہ اور مجاہدین کی عظیم الشان کارکردگی کے اظہار کے لئے یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ جلد ہی مجاہدین کی تعداد نوے ہوگئی تھی جو اضلاع متھرا، فرخ آباد ، ابطہ علی گڑھ، مظفر گڑھ ، اٹاوہ اور ریاست بھرت پور میں مصروف تھے کئی مراکز بنائے گئے تھے۔روزانہ رپورٹیں موصول ہوتی تھیں۔حضور چودہ اصحاب کبار کے ساتھ مشاورت فرماتے تھے اور صدر دفتر آگرہ کو ہدایات -^ بھجواتے تھے۔چند ماہ کے اندر مجاہدین کی مساعی مثمر ثمرات حسنہ ہو کر چھ اضلاع میں ارتداد ایک حد تک رک گیا۔سینکڑوں لوگ جو کلمہ تک سے نا آشنا تھے ، اسلامی تعلیم حاصل کرنے اور نماز روزہ کی پابندی کرنے لگے۔قلیل عرصہ میں ہی چھپیں مدارس کھل گئے تھے ڈیڑھ درجن غیر آباد مساجد آباد کی جا چکی تھیں۔مخالفین نے لوگوں کو ورغلایا کہ احمدی مسلمان نہیں۔ان کو چوپال میں ٹھہرنے سے منع کر دو۔انہوں نے جواب دیا کہ جو لوگ اپنا خرچ کرتے ہیں۔کھانا اپنا کھاتے ہیں۔ہمارے بچوں کو پڑھاتے ہیں اور انہیں دین سکھاتے ہیں۔ہم ان کو کس منہ سے کہیں کہ نکل جاؤ۔-۹ محترم بھائی جی کی مراجعت کے بارے مرقوم ہے کہ تیسری سہ ماہی کا دوسرا وفد جانے پر پہلے مجاہدین کا ایک حصہ اپنی سہ ماہی پوری کر کے واپس آ گیا ہے۔بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی بھی آئے ہیں۔آپ نے چھ ماہ ( اس ) میدان میں کام کیا ہے۔بعد ازاں ایک خصوصی کام حضرت بھائی جی اور حضرت مولوی فضل الدین صاحب پلیڈر کے سپر د کر کے آگرہ بھجوایا گیا۔