اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 18 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 18

۱۸ تلے چلا گیا۔مدت کے بعد خط آنے کی وجہ سے یا خط کے مضمون اور اس کے اثرات کے باعث میرے دل پر غیر معمولی دھڑکن اور سارے جسم پر لرزہ تھا۔کانپتے ہاتھوں اور شوق بھرے دل سے خط پڑھا جس کا ایک ایک لفظ دل میں بیٹھتا گیا اور میرا دل بے قابو ہوتا چلا گیا۔ابتداء میں چند جملے خط و کتابت کی روک کے متعلق بطور شکوہ شکایت کے بعد چندا شعار درج تھے جن میں انوار و برکات اسلام کے ذکر کے ساتھ ہی تبلیغ اسلام تھی۔اس نظم کے ایک مصرعہ کا ایک حصہ یہ تھا ع لے پکڑ دامن رسول کا میں نہیں کہہ سکتا کہ اس نظم کہنے والے کے دل کا درد۔سوز یا گداز تھا جس نے مجھے ایسا دردمند کیا اور مجھ میں ایسا سوز پیدا کر دیا جس سے میں اتنا رویا اتنا رویا کہ اس کا بیان بھی ناممکن ہے۔یا وہ نظم لکھ کر بھیجنے والے کے اپنے دل کی کیفیت تھی جس نے مجھے اتنار لایا کہ اتنا رونا اس کے بعد مجھے صرف دویا تین مرتبہ ہی یاد ہے۔میں پھوٹ پھوٹ کر رو لیتا اور پھر خط کو اٹھا کر پڑھنا شروع کر دیتا تھا۔اس کے بعد پھر وہی رقت قلب پر طاری ہو جاتی اور میں دل کھول کر جی کی بھڑاس نکال لیتا۔چنانچہ اسی طرح چند مرتبہ میں نے اس نظم کو دوہرایا۔اور چونکہ وقت زیادہ گذر گیا تھا۔قلم اٹھا کر بے ساختہ خط کا جواب لکھنا شروع کر دیا۔لکھتے لکھتے ایک مقام پر پھر قلب کی وہی کیفیت ہو گئی۔اور چند منٹ تک قلم رکا رہا۔وہ وقفہ کیسا تھا اور کیوں تھا اس کا پورا جواب تو اب ناممکن ہے کیونکہ نہ وہ وقت اب واپس آسکتا ہے اور نہ ہی وہ کیفیت قلم لکھ سکتا ہے نہایت ہی مجمل سابیان یہ ہے کہ میں اس آواز کے جواب میں جو مجھے خدا کے نام پر دی گئی تھی لبیک کہنا چاہتا تھا۔مگر دل اس کٹھن گھائی کی مشکلات کا خیال کر کے کانپنے اور لرزہ کھانے لگتا اور ہاتھ رک جاتا تھا اور یہ ایک ایسی کشمکش اور گرداب تھا کہ جس میں سے میں اپنی طاقت اور سمجھ یا قوت بازو سے نکل سکنے کے قابل نہ تھا۔آخر میں پھر رویا اور گڑ گڑایا اور خدا تعالیٰ سے امداد کا طالب اور راہنمائی کا ملتجی ہوا۔جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے میرے دل کو سکون اور اطمینان اور ہاتھ کو قوت بخشی اور میں نے غیر مشروط الفاظ میں سید بشیر حیدر صاحب کی خدمت میں ان کے خط کے جواب میں لکھ دیا کہ۔میں پندرہ روز کے اندر آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں گا۔اس میں تخلف ہر گز نہ ہوگا۔اور اگر میں اس عرصہ میں نہ پہنچوں تو آپ یقین کر لینا کہ ہریش چندر دنیا کے پردے پر زندہ موجود نہیں۔بس والسلام۔“