اصحاب احمد (جلد 9) — Page 272
۲۷۲ اخلاق کا علم سفر میں رفاقت سے ہوتا ہے۔اپنے تمام رفقاء سفر کے حسن اخلاق کا ذکر کر کے لکھتے ہیں کہ:۔شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی نہ صرف زود نویسی کے کام میں بے نظیر ثابت ہوئے ہیں، جس کے لئے انہیں ساتھ لیا گیا تھا بلکہ دیگر خدمات میں بھی انہوں نے نہایت مستعدی اور ہوشیاری سے کام کیا۔اس کے علاوہ علمی ضروریات میں بھی اپنی یاد داشتوں سے مدد دی۔“ ۱۹ نومبر کو نماز جمعہ سے پہلے ہم واپس آکر حضرت خلیفتہ اسیح کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔واقعات مباحثہ عرض کئے لنگر میں کھانا ہمارے واسطے تیار تھا۔کھانا کھا کر نماز جمعہ میں شامل ہوئے۔شام کی دعوت بھی لنگر میں تھی۔دوسرے دن صبح والدہ عبدالحی ( یعنی حرم حضرت خلیفتہ المسیح الاول) نے ہماری دعوت کی۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔۴- حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی مشایعت و استقبال حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب زیارت دیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ اور مصرود نیائے عرب کے نظام تعلیم کے مطالعہ کے اغراض سے باجازت حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل و حضرت اُم المؤمنین ۲۶ ستمبر ۱۹۱۲ء کو قادیان سے روانہ ہوئے۔روانگی سے ایک روز پہلے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور منشی چراغ دین صاحب کی تحریک پر ایک الوداعی جلسہ کیا گیا۔اس میں احباب قادیان کے اجتماع میں حضرت صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے ( بعدہ مجاہد ماریشس ) کی تلاوت کریم کے بعد محترم شیخ محمود احمد صاحب ( عرفانی ) نے طلباء کی طرف سے اور حضرت ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر نے اساتذہ کی طرف سے ایڈریس پیش کئے۔اور دو طلباء نے اپنی نظمیں پڑھیں۔جناب شیخ محمود احمد صاحب نے اس سفر کی غرض و غایت بیان کی۔اور پھر حضرت نیر صاحب نے اپنی تقریر میں بتایا کہ حضرت خلیفتہ امسح الاول کے ایام علالت میں ایک دن میں نے گھبرا کر بہت دعا کی تو خواب میں حضرت خلیفہ اول کو دیکھا کہ حضرت میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب کو پکڑے ہوئے ہیں اور فرماتے ہیں کہ: یہ پہلے بھی اول تھے۔اب بھی اول ہیں۔تب سے ایک خاص تغییر میری طبیعت میں نیکی کا اور آپ سے تعلق پیدا کرنے کا ہے ہم سب کے لئے دعا کی درخواست ہے۔