اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 271 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 271

۲۷۱ اور چونکہ تار آیا تھا کہ کتا بیں اور زود نو لیں ساتھ لایا جائے۔اس لئے حضرت بھائی " شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی مختار عام صدرانجمن کو بھی ساتھ بھجوایا۔روانگی کے وقت ملاقات کیلئے حاضر ہونے پر خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے چند قدم تک چل کر دعائے مسنون کے ساتھ مشایعت فرمائی۔حضرت غلام رسول صاحب را جیکی بھی ارشاد پر حضرت حکیم محمد حسین صاحب مریم عیسی کے ساتھ پہنچے اور ارشاد کے مطابق دہلی سے حضرت میر قاسم علی صاحب بھی۔مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو بلانے پر انہوں نے کہا کہ یہ غلطی کی گئی کہ وفات وحیات مسیح پر مباحثہ رکھا۔ان کے مطالبہ پر تار کے ذریعہ غیر از جماعت صاحبان نے (اس زمانہ کے لحاظ سے معقول رقم ) دس روپے بھجوائے لیکن وہ نہیں آئے۔احمدیوں کو منصوری کے علماء نے حقارت سے کہا کہ احمد یوں نے بی۔اے، ایم اے بلا لئے۔کوئی عالم بلایا ہوتا۔اس پر عربی میں مباحثہ کرنے کو کہا گیا جس سے ان علماء نے انکار کیا۔ان چھ علماء میں سے ایک مدرس مدرسہ مظاہر العلوم اور حضرت میر قاسم علی صاحب کے درمیان وفات وحیات مسیح پر پہلے روز مباحثہ ہوا۔ان مدرس صاحب نے نصف گھنٹہ تقریر کی۔اور میر صاحب نے جنہیں اسلامی اخبار ابوالمناظرین کے لقب سے ملقب کرتے ہیں، تین گھنٹے جوابی تقریر کی۔دوسرے روز انہی دونوں میں صداقت مسیح موعود پر مناظرہ ہوا۔معاہدہ کے مطابق فریقین نے ایک ایک زود نو لیس لانا تھا۔پھر دونوں فریق کے صدر صاحبان جلسہ نے قلمبند کردہ تقریروں پر دستخط کرنے تھے لیکن غیر از جماعت کے صدر جلسہ بغیر اطلاع منصوری سے چلے گئے۔اور غیر از جماعت لوگ کہنے لگے کہ ہما را از ودنویس قلمبند نہیں کر سکا تو حضرت بھائی جی کی قلمبند کردہ تحریر پر دستخط کرنے کو کہا تو ٹال مٹول کر دیا۔غیر از جماعت مناظر اور ان کے ایک ساتھی عالم نے تسلیم کیا کہ بھائی جی نے تقریریں ٹھیک قلمبند کی ہیں اور ان کی تعریف کی۔اس مناظر کے ایک ساتھی مولوی صاحب نے میر قاسم علی صاحب کو مخاطب کر کے اپنے مناظر کی نا اہلیت کا اقرار کیا اور میر صاحب کے بارے میں کہا کہ " آپ کی تقریر ماشاء اللہ بہت قابل تعریف تھی۔آپ کا ہر لفظ لوگوں کے دلوں پر نقش ہو گیا۔ایسی ہی تقریر میں سامعین کے واسطے فائدہ مند ہوسکتی ہیں۔“ حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بد اپنی اس رپورٹ میں تحریر کرتے ہیں کہ کسی شخص کے حقیقی