اصحاب احمد (جلد 9) — Page 266
۲۶۶ پاس بیٹھو۔اس وقت مستورات زیارت کر رہی تھیں۔عبد القادر کے ابا نے پردہ کی خاطر سر سے کپڑا آگے کیا ہوا تھا۔میں حضور کی زیارت کر کے پھر باہر آ گئی تو پھر حضرت اماں جان نے فرمایا کہ جا کر اپنے میاں کے پاس بیٹھو۔اس پر میں دوبارہ اندر گئی لیکن پھر زیارت کر کے باہر چلی آئی۔اس پر حضرت اماں جان نے مجھے کہا کہ اپنے میاں سے کھانے کا پوچھو اور پاس بیٹھو۔میں نے عرض کیا کہ کھانا پوچھنے کا یہ کونسا موقعہ ہے۔پھر میں اندر آ گئی اور بیٹھ گئی تو عبد القادر کے ابا نے مجھے باہر حضرت اماں جان کے پاس جا کر بیٹھنے کو کہا۔میں نے کہا کہ وہ آپ کے پاس بیٹھنے کو کہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب تعمیل حکم میں کچھ دیر بیٹھ لیا ہے، اب آپ ان کے پاس بیٹھیں۔چنانچہ میں اماں جان کے پاس چلی گئی۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ یہ امر حضرت اماں جان کے حسن اخلاق کا مظہر ہے کہ اپنے سب سے بڑے صدمہ کے وقت بھی دوسروں کی ذراسی تکلیف کا بھی خیال رکھتی ہیں۔بھائی جی فرماتے ہیں کہ حضور کے وصال تک میں حضرت اقدس کے چہرہ مبارک کی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھ رہا تھا میرا دھیان ایک ہی طرف تھا اس لئے مجھے معلوم نہیں آیا بوقت وصال حضور کا سر مبارک میری گود میں تھا یا نہیں۔حضرت بھائی جی مزید بیان فرماتے ہیں کہ زیارت ختم ہونے پر صحن میں جنازہ نکال کر وہاں سے صحن کے مشرقی دروازہ سے نکالتے ہوئے جائے تدفین پر لے جایا گیا۔بوقت تدفین حفاظت کی خاطر قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی نے جو اس کام کے انچارج تھے پکی اینٹوں سے ڈاٹ بنوائی۔حضرت خلیفتہ اسیح اول کو علم ہوا تو کچی اینٹوں کے لگانے کو آپ نے ناپسند فرمایا۔لیکن چونکہ شام کا وقت ہو چکا تھا اور باغ کے گھنے، گنجان درختوں کی وجہ سے تاریکی میں اور بھی اضافہ ہو گیا تھا اس لئے قاضی صاحب نے اس ڈاٹ کو ویسا ہی رہنے دیا۔مؤلف لاہور۔تاریخ احمدیت حضرت شیخ عبد القادر صاحب سابق سوداگر مل نے اپنی تالیف میں ان مستری صاحبان کا بیان شائع کیا ہے جنہوں نے تدفین کا کام کیا تھا کہ پکی ڈاٹ نہیں بنائی گئی تھی۔حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب نے تدفین کے بارے بیان کیا ہے کہ مزار میں ڈاٹ لگائی گئی تھی۔تدفین کرنے میں عملاً شامل افراد زندہ تھے ان سے محترم مولوی محمد یعقوب صاحب طاہر (ہیڈ زودنویس ربوہ ) نے مکمل تحقیقات کی تھی جس سے ثابت ہوا کہ ڈاٹ نہیں لگائی گئی تھی۔اس ساری تفصیل کے لئے دیکھئے لاہور تاریخ احمدیت ( مؤلف حضرت شیخ عبدالقادر صاحب سابق سوداگر مل ) طبع اوّل ۱۹۶۶ء (حاشیه صفحه ۶۵ تا ۶۷)