اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 234 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 234

۲۳۴ وہ لوگ ہیں جو سابق بالخیرات اور قول انا اول المئومنین کہنے میں احق اور اولی ہوتے ہیں۔میرے آقاسید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فداہ نفسی نے اپنے محبوب مقتد اسید نا المصطفیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی محبت کی ، اتنا تعلق بڑھایا، ایسی الفت کی اور اتنا پیار کیا کہ فنائیت کے مقام پر پہنچ کرد و من تو شدم تو من شدی کا مصداق بن گئے اور کامل پیروی ، کامل اطاعت کر کے اپنے آپ سے گم اور اپنے مطاع میں ایسے فنا ہوئے کہ گویا ایسی ذات بابرکات کا ظہور ہے۔وہی علم ، وہی عرفان ، وہی نور اور وہی ایمان ، وہی اخلاق ، وہی اطوار اور وہی حسن ، وہی جمال۔حسن یوسف دم عیسی ید بیضا داری آنچه خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری ۶۳ کی شان اور وہی مقام ہے۔میں اپنی طرف سے نہیں بلکہ وہی کہتا ہوں جو خدا نے بتایا اور رب الافواج نے آسمان سے کہا اور خدا سے بڑھ کر کون حقیقت حال سے واقف اور اپنے بندوں کے مقام سے آگاہ ہوسکتا ہے۔وہی آپ کو جرى الله فی حلل الانبیاء کے نام سے یاد فرماتا ہے اور درحقیقت یہی آپ کی صحیح تعریف اور یہی آپ کا اصل مقام ہے۔غرض اللہ کریم نے حضور پر نور کو اپنے آقا و مطاع آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و پیروی اور محبت و غلامی کے باعث اتنا منور کیا کہ نور ہی بنا دیا اور اتنا فیض بخشا کہ سر چشمہ فیوض کر دیا۔آپ کا ہر خلق کامل اور ہر ادا پیاری تھی۔”ز ہے خلق کامل زہے حسن تنام‘۔مگر اس موقع پر میں حضور کے جس خلق اور جس ادا کا ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ حضور کی صفت دلجوئی و دلداری ہے جو آپ کے اوصاف میں خاص طور سے نمایاں تھی۔اس کا فیض اس کثرت و وسعت سے جاری رہتا کہ حضور کی زندگی میں اس کی سینکڑوں بلکہ ہزاروں مثالیں پائی جاتیں ہیں۔بلکہ میں تو اس یقین پر علی وجہ البصیرت قائم ہوں کہ حضور کی صحبت کا فیض یافتہ ہر خوش نصیب حضور کی اس صفت کی زندہ دلیل اور کچی مثال ہے۔کیونکہ میرے ذوق میں حضور کی مجلس کا وہ مسلم ومشہور خاصہ اثر اور نتیجہ کہ کتنا ہی کوئی رنج و غم سے چورانسان مغموم ومهموم بشر اور شدائد ومصائب کے پہاڑ تلے دبا ہوا بالکل افسردہ پر مردہ بندہ جب بھی حضرت کا چہرہ دیکھ پاتا۔حضور کی مجلس میں پہنچ جاتا تو تمام رنج وغم اس کے دور اور ہم وحزن اس کے کافور ہو جاتے اور ایک سکویت ہوا کرتی تھی جو نامعلوم طریق پر افسردہ دلوں پر نازل ہو کر ان کی افسردگی کو تازگی سے بدل دیتی تھی۔ایک طمانیت ہوا کرتی تھی۔جواندر ہی اندر خستہ جانوں کی خستہ حالی و پستگی کو تازگی ورونق دے کر خوش حال و خورسند بنا دیا کرتی تھی۔