اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 232 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 232

۲۳۲ یہ ملاقات ہوئی تو بے نتیجہ نکل گئی۔مگر وہ مردانہ ہمت مایوس ہوئی نہ تھکی۔بلکہ اس کے دل میں امید کی ایک جھلک اور کامیابی کی ایک شعاع پیدا ہوگئی۔اور وہ بجائے اداس و نا شاد واپس جانے کے ایک خوشی اور امید بھرا دل لے کر واپس ہوئی۔گھر پہنچی حال احوال لیا دیا۔مگر گھر اسے کھانے کو دوڑتا تھا۔اس کی دلچسپی کی ایک ہی چیز تھی مگر گھر اس سے بھی محروم ہو چکا تھا نا چار کچھ عرصہ بعد تھوڑا وقفہ دے کر وہ پھر وہیں پہنچی جہاں اس کی آنکھ کا تارا اور دل کا سہارا قید فرنگ میں اسیر محبوس ایک آزاد زندگی بسر کر رہا تھا۔گونتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات اور امید وہی موہوم تھی۔محمد دین اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہ سر کا بلکہ اور زیادہ سخت اور سیاہ دل ہو کر ہدایت سے دور اور کفر سے بھر پور ہو چکا تھا۔اس کے حیا کی چادر پھٹ کر پارہ پارہ اور زبان کی قینچی اور زیادہ تیز ہو گئی تھی اور اس طرح اس کی ماں اگر چہ اب کے بھی بظاہر نا کام اور بے نیل و مرام واپس ہوئی مگر اس کے دل میں ایک چیز تھی جس کی وجہ سے وہ پُر امید تھی۔پھیلاں ( فضل بی بی فضل بیگم یا فضل النساء ) خود ایک سیدھی سادی مسلمان ، نماز روزہ کی پابند عورت تھی۔ملکی رواج کے مطابق کچی کچی اور میٹھی روٹی کتابیں اس نے سنی ہوئی تھیں۔ساتھ ہی قادیان کا نام اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام بھی شیخ مولا بخش صاحب کے ذریعہ سے اس کے کان میں پہنچ چکا تھا۔شیخ احمد دین صاحب کے قادیان پہنچ کر دجالی فتنہ سے محفوظ ہو جانے کا چر چا بھی وہ سن چکی تھی۔نیز دوڑ دھوپ اور کوشش کے علاوہ دُعا کا نسخہ بھی اس کو مل چکا تھا۔خدا ، اس کے رسول اور اپنے دین یعنی اسلام کے لئے اس کے دل میں ایک غیرت اور حمیت موجود تھی۔وہ اپنی نمازوں میں رورو کر دعائیں کرتی اور خدا سے مدد مانگنے میں مصروف رہنے لگی۔کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ خدا نے اس کی سن لی۔اس کی آہ وزاری اور اضطرار پر رحم کیا اور ایسے سامان پیدا کر دیئے جن سے ” پھیلاں“ کے مقصد کے حصول کی راہیں کھلی گئیں۔اس کے دل کی آگ نے بخار بن کر محمد دین پر حملہ کیا۔اس کی قلبی جلن اور سوزش پہلے محرقہ بن کر اسے جلاتی رہی اور آخرسل اور دق کی صورت میں اس پر مسلط ہوگئی۔علاج معالجے اور ڈاکٹری تدابیر برکا رر ہیں اور جب حالت نازک سے نازک ہو گئی تو مجبور ہو کر محمد دین کی ماں کو اطلاع دی گئی۔وہ پہنچی اور لڑکے کو نیم جان پایا۔منت خوشامد کر کے اپنے لڑکے کو گھر لے جانے کی اجازت حاصل کی جس کے لئے مشن پہلے ہی تیار اور کسی بہانہ کے انتظار میں تھا۔عورت کے سر احسان رکھا اور محمد دین کی گویا لاش ہی اس کے حوالے کی۔جس کو لے کر وہ گھر پہنچی۔علاج معالجہ اور مقدور بھر اس کی خدمت کی۔جس سے وہ کچھ سنبھلا اور مرض میں بھی افاقہ ہوا۔جب وہ