اصحاب احمد (جلد 9) — Page 9
۹ دونوں ہاتھوں سے اس مگر مچھ کا منہ سر اور آنکھوں کو نو چنا شروع کر دیا۔جس کے نتیجہ میں وہ کمر سے آگے نگل بھی نہ سکا۔بلکہ مجھے چھوڑ کر بھاگ گیا اور اس طرح میں اس کے پھندے سے صحیح سلامت بچ گیا۔اور میرے جسم کو کوئی گزند بھی نہ پہنچا۔الحمد الله، الحمد لله ـ ثم الحمد الله علی ذالک مسلمان طلبہ ، مساجد، عید گاہوں اور اذان سے محبت اور منادر سے نفرت آپ کے خیالات کی تبدیلی اور قلبی انقلاب کے نتیجہ میں آپ کو ہند و طلباء اور دوستوں کی بجائے مسلمان طلباء اور لڑکوں سے محبت ہونے لگی اور اٹھنا بیٹھنا کھیلنا کودنا ، ملنا جلنا اور چلنا پھرنا غرض عام سوسائٹی کے تعلقات کا نقشہ ہی پلٹ گیا۔گویا روحانی انقلاب کے ساتھ جسمانی تعلقات میں بھی انقلاب رونما ہو گیا۔مدرسہ میں آپ کی مضمون نویسی اور مباحث (Debate) میں اسلامی رنگ اور نقطہ نظر غالب ہونے لگا اور نوبت بعض اوقات یہاں تک پہنچ جایا کرتی کہ بعض متعصب لڑ کے بحث سے تنگ آ کر کھلم کھلا آپ کو مسلمان یا مسلمانوں کا طرفدار کہنے لگ جاتے۔مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر اس زمانہ میں مولوی جمال الدین مولوی فاضل و نشی فاضل سکنہ للیانی متصل قصور تھے اور ان کے نائب ایک صاحب منشی یا مولوی عبداللہ صاحب تھے۔جو وہ بھی غالباً اسی قصبہ للیانی ہی کے باشندے یا اس کے آس پاس کے رہنے والے تھے۔اور دو استاد ہندو اور سکھ تھے۔مضمون نویسی کا بچپن میں آپ کو زیادہ شوق تھا۔جس کی بڑی وجہ یہ ہوئی کہ رسوم ہند کے مطالعہ کے نہایت گہرے اور پائیدار اثر کے ماتحت آپ مضامین میں سادگی سے اپنی قلبی کیفیات کا نقشہ کھینچنے کی کوشش کیا کرتے تھے جس سے ہند و طلباء جو نہایت متعصب اور آریہ خیالات میں پرورش پاتے تھے خواہ مخواہ کھینچ تان کر آپ کو اپنا مد مقابل بنالیتے اور اس طرح بحث شروع ہو جاتی۔اور یہی وجہ ہوئی کہ ہوتے ہوتے آپ کے خیالات اور بھی زیادہ وسیع اور پختہ ہوتے چلے گئے اور آپ کو ہندوؤں سے نفرت اور مسلمانوں سے محبت بڑھنے لگی۔آخر آپ کی نشست و برخاست اور ربط و اختلاط مسلمانوں سے بہت بڑھ گیا۔اور آپ ہندوؤں سے قریباً منقطع ہو گئے۔اور اب آپ بجائے منادر اور شوالوں وغیرہ کے مساجد کے دروازوں پر جا کر کھڑے ہوتے۔کبھی ان کی چاردیواری پر بیٹھ کر میں باندھے، قطار در قطار کمر بستہ کھڑے مسلم نمازیوں کو خدا کی عبادت کرتے ، اس کے حضور گرتے اور اس سے دعائیں کرتے دیکھ دیکھ کر دل ہی دل میں لطف اٹھاتے اور اثرات قبول کیا کرتے۔خصوصاً جبکہ نماز با جماعت ہو رہی ہوتی۔اور مسلمان قطار در قطار صفوں میں کھڑے ہوتے۔