اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 222 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 222

۲۲۲ حضور کے لئے خاص طور سے ایک کرسی بچھائی گئی۔اس پر حضور تشریف فرما ہوئے اور جب عرض کیا گیا کہ لکھنے والے حاضر و تیار ہیں تو حضور پر نور اسی کرسی پر بیٹھے گویا کسی دوسری دنیا میں چلے گئے معلوم دینے لگے حضور کی نیم وا چشمان مبارک بند تھیں۔اور چہرہ مبارک کچھ اس طرح منور معلوم دیتا تھا کہ انورا الہیہ نے ڈھانپ کر اتنا روشن اور نورانی کر دیا تھا کہ جس پر نگہ ٹک بھی نہ سکتی تھی۔اور پیشانی مبارک سے اتنی تیز شعاعیں نکل رہی تھیں کہ دیکھنے والی آنکھیں خیرہ ہو جاتی تھیں۔حضور نے گونہ دھیمی مگر دلکش اور سریلی آواز میں جو کچھ بدلی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔فرمایا يا عباد الله فكروا في يومكم هذا يوم الاضحى فانه اودع اسراراً لأولى النهى۔لکھنے والے لکھنے لگے جن میں خود میں بھی ایک تھا مگر چند ہی فقرے اور شاید وہ بھی درست نہ لکھے گئے تھے لکھنے کے بعد چھوڑ کر حضور کے چہرہ مبارک کی طرف ٹکٹکی لگائے بیٹھا اس تبتل وانقطاع کے نظارہ اور سریلی دلوں کے اندر گھس کر کایا پلٹ دینے والی پر کیف آواز کے لطف اٹھانے لگ گیا۔تھوڑی دیر بعد حضرت شیخ صاحب بھی لکھنا چھوڑ کر اس خدا ئی نشان اور کرشمہ قدرت کا لطف اٹھانے میں مصروف ہو گئے لکھتے رہے تو اب صرف حضرت مولوی صاحبان دونوں جن کو خاص حکم تھا کہ وہ لکھیں۔لکھنے میں پنسلیں استعمال کی جارہی تھیں۔جو جلد جلد گھس جاتی تھیں جب ایک گھس جاتی تو دوسری اور پھر تیسری بدل بدل کر لکھا جاتا تھا۔مجھے یاد ہے کہ پنسل تراشنے اور بنا بنا کر دینے کا کام بعض دوست بڑے شوق و محبت سے کر رہے تھے۔مگر نام ان میں سے مجھے کسی بھی دوست کا یاد نہ رہا تھا۔ایک روز اس مقدس خطبہ الہامیہ کے ذکر کے دوران میں مکرم ومحترم حضرت مولانا مولوی عبد الرحیم صاحب درد نے بتایا کہ وہ بھی اس عید اور خطبہ الہامیہ کے نزول کے وقت موجود تھے اور لکھنے والوں کو پنسلیں بنا کر دیتے رہے تھے۔بعض اوقات حضرت مولوی صاحبان کو لکھتے میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے یا کسی لفظ کے سمجھ نہ آنے کے باعث یا الفاظ کے حروف مثلا الف اور عین ، صادوسین یا تاء اور ط وت وغیرہ وغیرہ کے متعلق دریافت کی ضرورت ہوتی۔تو دریافت کرنے پر سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عجیب کیفیت ہوتی تھی اور حضور یوں بتاتے تھے جیسے کوئی نیند سے بیدار ہو کر یا کسی دوسرے عالم سے واپس آکر بتائے۔اور وہ دریافت کردہ لفظ یا حرف بتانے کے بعد پھر وہی حالت طاری ہو جاتی تھی۔اور انقطاع کا یہ عالم تھا کہ ہم لوگ یہ محسوس کرتے تھے کہ حضور کا جسد اطہر صرف یہاں ہے روح حضور پر نور کی عالم بالا میں -2