اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 192 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 192

۱۹۲ ہندوؤں حضوصا آریوں کی سازشوں اور منصوبوں سے متعلق ملتی رہیں ہم لوگ بطور خود ہی چوکس و ہوشیار ہو کر حضور کے مسجد میں تشریف لانے یا سیر وغیرہ کے لئے نکلنے کے اوقات میں زیادہ محتاط رہنے لگے اور ایک قسم کے پہرہ کا سلسلہ جاری کرلیا گیا۔ہوتے ہوتے ایسی خبریں زیادہ تیز اور گرم ہوتی گئیں۔ملک کے طول وعرض کے حالات کی تفاصیل، خطوط اور اخبارات کے ذریعہ معلوم ہونے لگیں۔اور ساتھ ہی قادیان میں اجنبی ، مشکوک اور آوارہ لوگوں کی آمد کا سلسلہ بڑھتا نظر آنے لگا۔حتی کہ بعض مقامی اشرار کی ٹیڑھی ترچھی آنکھیں ان کے بدار ا دوں اور منصوبوں کی تصدیق کرنے لگیں۔دوسری طرف اچانک ایک روز کپتان پولیس نے بھاری جمعیت کنسٹبلوں کے ساتھ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکانات پر گھیرا ڈال کرنا کہ بندی کر لی۔کسی کو باہر جانے کی اجازت نہ تھی نہ اندر آنے کی۔بہت دیر تک ہندو ساتھ ہوکر تلاشی کراتے خطوط اور مضامین پڑھتے رہے۔اس موقعہ پر حضرت اقدس نے جس خندہ پیشانی اور فراخدلی سے پولیس کو اس کے کام میں خود مدددی۔اور جس طرح اخلاق فاضلہ کا اسوہ حسنہ دکھایا۔وہ بھی ایک معجزہ سے کم نہ تھا۔غرض تلاشی کرائی۔اور ان لوگوں نے کوشش کا کوئی دقیقہ باقی نہ چھوڑا۔اور نہ صرف مخالفانہ بلکہ معاندانہ و جانبدارانہ طریق سے ناخنوں تک کا زور لگایا۔مگر سوائے حرمان وحسرت اور مایوسی و نا کامی کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔اتنی گڑ بڑ اور اضطراب و ہیجان کے دنوں میں یہ واقعہ پیش آیا کہ شام کی نماز سے فراغت کے بعد جو گرمی کی وجہ سے بالائی حصہ مسجد میں ہوا کرتی تھی۔پچھلی ایک دو صفوں کے نمازیوں میں بے چینی اور خلجان کے آثار پائے گئے۔سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب سنن سے فارغ ہو کر شہ نشین پر رونق افروز ہوئے۔دائیں بائیں اور سامنے حضور کے کبار صحابہ اور خدام حلقہ بنا کے بیٹھ گئے تو وہ معاملہ حضرت کے حضور پہنچا۔بعض دوستوں نے بیان کیا کہ کسی نے پیچھے سے ان پر حملہ کیا اور تھپڑ یا مکہ مار کر بھاگ گیا۔اور اس کے بھاگ کر سیٹرھیوں سے اتر جانے کی آواز بھی ہم نے سنی تھی وغیرہ۔آثار خطرہ کے موجود تھے وجوہ اس واقعہ کی پیٹھ پر تھے۔حالات اس خبر کی صداقت پر باور کرنے کے لئے کافی سے زیادہ پہلے ہی جمع ہو چکے تھے۔طبائع میں تشویش موجود تھی۔اس واقعہ نے سونے پر سہا گہ کا کام دیا اور متفقہ طور پر خدام وصحابہ نے حضرت اقدس کے حضور اس اہمیت پر زور دیتے ہوئے احتیاطی تدابیر کے لئے درخواست کی۔