اصحاب احمد (جلد 9) — Page 151
۱۵۱ تین تین صفیں بنانے سے بھی کام نہ چلا تو سید نا حضرت اقدس نے بیت الفکر کے مشرقی جانب کا صحن بھی نمازیوں کے واسطے کھلوا دیا۔اور اس پر بس نہ رہی بلکہ اکثر بیت الفکر کے اندر بھی نمازی نماز ادا کر نے لگے * مسجد مبارک کا تیسرا حصہ اس (دوسرے) حصہ کے مشرقی جانب واقع تھا۔اور ان دونوں حصوں کے درمیان میں ایک دیوار حائل تھی۔اور ایک دروازہ جو قریباً درمیان میں تھا ان کو باہم ملا تا تھا۔اس حصہ کا طول شرقا غر با ۹ فٹ ۱۴اینچ اور عرض شمالاً جنو باے فٹ ۵- انچ تھا اور اس میں ایک کھڑ کی جنوبی دیوار میں جو وہ بھی اسی ویران خراس کے کھنڈر میں کھلتی تھی۔اور تین دروازے تھے جن میں سے ایک مسجد کے درمیانی حصہ میں کھلتا تھا۔اور باقی دو میں سے ایک نیچے سے اوپر آنے والی سیڑھیوں کا اور دوسرا وہ تھا جو نسل خانہ میں جاتا تھا۔جہاں اس زمانہ (۱۸۹۵ ء ) میں غسل اور وضو کے لئے پانی رکھا ہوتا تھا۔غسل خانہ۔سرخی کے نشان والا کمرہ * یہی وہ حصہ ہے جس کو یہ عزت حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قلم کی سرخی کے نشانات عالم وجود میں نمودار ہو کر حضور پُر نور کے کرتے اور حضرت میاں عبد اللہ صاحب سنوری مرحوم کی ٹوپی پر پڑے اور ایک سیڑھی لکڑی کی بھی اس کے مشرقی حصہ میں لگی ہوئی تھی۔جو مسجد کے او پر جانے کے لئے گول کمرہ کی چھت پر کھلتی تھی اور پھر گول کمرہ کی چھت سے دوسری سیڑھی کے ذریعہ اس غسل خانہ کی چھت پر جاتے تھے اور چونکہ غسل خانہ کی چھت اصل مسجد سے بیچی تھی۔لہذا ایک تیسری سیڑھی تھی۔جس کے ذریعہ سے مسجد میں پہنچتے تھے مگر اب اس میں تغیرات ہو چکے ہیں مسجد مبارک کے تیسرے حصہ کی آخری دیوار پر مشرقی جانب میں غسل خانہ کی چھت سے اوپر جو حصہ دیوار تھا اس پر کشتی کی شکل بنی ہوئی تھی۔اور کچھ اور بھی لکھا تھا جس میں یہ پیرا الحکم بابت ۷ ۱۴ جون ۹۳۸ صفحہ ۷ سے ماخوذ ہے اور اس پیرے کی خطوط وحدانی کی عبارت اس سے سابقہ عبارت کا خلاصہ ہے۔البتہ مسجد مبارک کے متعلق بقیہ عبارت کے بارے اگلا حاشیہ دیکھئے۔* عنوانات مسجد مبارک اور غسل خانہ کی روایات ما خوذ الحکم بابت ۷ ۱۴ مئی ۱۹۳۸ء صفحه ۲۳٬۱۵ میں خطوط وحدانی والی عبارات خاکسار مؤلف نے بھائی جی سے استفسار کر کے زائد کی ہیں اور شہ نشین“ کے زیر عنوان ساری عبارت خاکسار نے بھائی جی سے استفسار کر کے زائد کی ہے۔